شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 289 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 289

289 مہذب ممالک کے سامنے اپنے آپ کو محض آئینی بادشاہ ثابت کرنا چاہتے تھے۔اسی وجہ سے یورپ روانگی سے قبل مجلس وزاراء اور شورائے ملتی میں معاملہ پیش کر کے ان کی منظوری کے خواہش مند تھے۔دراصل یہ بھی ایک رسمی کارروائی تھی ورنہ بیرونی سیاحت کے متعلق ان کا ارادہ اٹل صورت اختیار کر گیا تھا۔انہوں نے یورپ کے تمام سفراء سے استمزاج بھی کر لیا تھا اور سب کی طرف سے ان کو ان کے ملک کا دورہ کرنے کی دعوت بھی موصول ہو چکی تھیں اور وزارت خارجہ نے امیر کے دورہ کا پروگرام بھی طیار کر لیا تھا امیر کے ساتھ جو اہم شخصیات سیاحت پر جارہی تھیں ان کا انتخاب ہو چکا تھا ان میں ملکہ ثریا صاحبہ، سردار علی احمد جان، سردار محمود خان طرزی اور بعض دیگر سرداران اور افسران شامل تھے۔(۷۳) سیاحت بیرون کے دوران افغانستان میں حفاظتی اور سیاسی انتظامات امیر امان اللہ خان نے اپنی روانگی کے وقت محمد ولی خان کو اپنی قائمقامی میں سب - سے اہم کام پر مامور کیا۔محمد ولی خان امیر امان اللہ خان کے خاص آدمی تھے اور اپنی غیر حاضری کے دوران انہیں یہ کھٹکا نہیں تھا کہ محمد ولی خان ان کے خلاف کسی سازش میں شریک ہوسکیں گے چنانچہ ان کو اپنا قائم مقام یا وکیل مقرر کر لیا محمد ولی خان کی افغانستان میں کوئی قومی حیثیت نہیں تھی اور نہ ان کا کوئی قبیلہ تھا کیونکہ یہ افغان نہیں تھے بلکہ سنٹرل ایشیاء سے تعلق رکھنے والے ازبک تھے۔وہاں سے بچپن میں امیر عبدالرحمن خان کے زمانہ میں پکڑ کر لائے گئے تھے اور غلام بچہ کہلاتے تھے اگر چہ وہ ترکستان کے ایک سرکردہ خان کی اولاد تھے لیکن افغانوں کے زاویہ نگاہ سے وہ صاحب قوم شمار نہ ہوتے تھے ان کی وفاداری بادشاہ تک محدود تھی کوئی افغان قبیلہ ان کی پشت پر نہ تھا۔محمود خان یاور کو ولایت کابل کا گورنر مقرر کیا گیا اس کے ساتھ با دشاہ کو روزانہ خفیہ رپورٹیں بذریعہ وائر لیس بھجوانا بھی ان کے سپر د تھا۔ایک سردار محمد عزیز خان محمد زئی تھے جن کی امیر امان اللہ خان سے کچھ رشتہ داری بھی تھی ان کو وزیر داخلہ سے ہٹا کروزیر تربیہ مقرر کر دیا گیا۔اپنے چھوٹے بھائی سردار حیات اللہ خان کو وزارت عدلیہ سے