شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 267
267 ہمیں افغانستان کی گورنمنٹ اور اس کے فرمانروا کے خلاف دل میں بغض نہیں رکھنا چاہئے بلکہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اب بھی ان کو ہدایت دے (۵۰) ’’ان ہی ایام میں۔۔۔۔کابل کے علاقہ میں بغاوت پھیلی ہوئی ہے۔باغی ، حکومت کے خلاف باقاعدہ جنگ و جدال کر رہے ہیں۔اور حکومت کو بہت کچھ نقصان پہنچا چکے ہیں۔جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔اس کے مقابلہ میں سلطنت جو کچھ کر رہی ہیں۔وہ یہ ہے کہ بار بار ان کی منتیں کرتی ہے۔اور باغیوں کی اسے اس قدر خاطر منظور ہے کہ چند ہی دن ہوئے اخبارات میں جب یہ خبر شائع ہوئی کہ سلطنت کا بل باغیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔تو اس کی خاص طور پر تردید کی گئی اور کہا گیا کہ اس قسم کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔' حکومت کابل کا باغیوں کے مقابلہ میں اور ان باغیوں کے مقابلہ میں جو سلطنت کا تختہ الٹ دینے اور موجودہ حکمران کو مٹا دینے کے لئے کوشش کر رہے ہیں یہ حال ہے۔لیکن ایک با امن اور حکومت کی اطاعت اپنا مذہبی فرض سمجھنے والے احمدی کو نہایت دردناک طریق سے قتل کیا جاتا ہے کیوں؟ کیا ان باغیوں کی نسبت جو موجودہ امیر کا بل کی جگہ ایک اور شخص کو تخت پر بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور موجودہ حکومت کو الٹ کر اس کی جگہ نئی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ایک اکیلا احمدی مولوی نعمت اللہ خان مسکینی اور بے چارگی کی حالت میں بسر اوقات کرتا ہوا زیادہ خطرناک اور زیادہ نقصان رساں تھا کہ اسے وحشیانہ طریق سے قتل کرنا ضروری سمجھا گیا۔نہیں ! بلکہ اس کی بیکسی اور بے بسی نے ہی ظالموں اور سفاکوں کو قتل کی جرات دلائی اور اس کے احمدی ہونے کی وجہ سے ہی اسے باغیوں کو خوش کرنے کے لئے قربان کر دیا گیا۔ورنہ اگر حکومت کابل میں کچھ بھی انسانیت ہوتی اور ذرا بھی جو ہر مردانگی رکھتی تو ایسا شرمناک اور بزدلانہ فعل کبھی اس سے سرزد نہ ہوتا وہ باغیوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتی اور ان کی شورش کو جرات اور دلیری سے دباتی لیکن شمشیر به کف باغیوں اور جانباز فسادیوں کے مقابلہ میں اس وقت تک جن حیلہ بازیوں سے وہ کام لے رہی ہے۔انہی میں سے ایک ہمارے