شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 265 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 265

265 کو جب حضرت سید صاحب شہید کی شہادت کی خبر پہنچی تو حضور کو بہت ہی صدمہ اور تکلیف ہوئی۔لیکن اس لمحہ جن اصحاب نے حضور کی حالت دیکھی۔انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ اس خبر سے آپ کو ایک قسم کی مسرت اور خوشی بھی تھی اور وہ اس لئے کہ ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے ایسے ثابت قدم اور جری انسان ہیں۔جو دین کے مقابلہ میں دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت سے نہ تو مرعوب ہو سکتے ہیں اور نہ اپنی جان کے خوف سے حق کو چھوڑ سکتے ہیں۔ان کے لئے جان دے دینا آسان ہے۔بہ نسبت اس کے کہ جو صداقت انہوں نے قبول کی ہے۔اسے ترک کریں اور یہ بات جماعت کے لئے نہایت ہی فخر اور خوشی کی بات ہے۔دوسری وجہ حضور کی مسرت کی یہ تھی کہ سچی جماعتیں دنیا میں اسی وقت مضبوط اور مستحکم ہوتی ہیں۔جب ان پر مصائب آئیں تو ثابت قدمی دکھائیں اور خدا کے لئے جان تک قربان کر دینا ان کے لئے کوئی بڑی بات نہ ہو۔۔۔آج ہم اس الم ناک واقعہ کو ساری دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔اور جب کبھی خدا کی راہ میں جان دینے والوں کا ذکر ہو گا۔اس مبارک وجود کو پیش کریں گے۔۔ہمارے محترم بھائی کو قتل کرنے والے ظالموں اور سفاکوں نے سمجھا ہو گا کہ ہم نے اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔اور اس کا نام ونشان دنیا سے مٹا دیا لیکن یہ ان کی خام خیالی ہے۔کیونکہ شہید مرحوم مرا نہیں بلکہ زندہ ہو گیا اور ایسا زندہ ہوا کہ ہماری جماعت کے ہر ایک مرد و عورت میں زندگی کی روح پھونک گیا۔اور بتا گیا کہ حقیقی زندگی اور ہمیشہ کی زندگی وہی ہے جو مجھے حاصل ہوئی ہے۔جیسا کہ ہر ایک کو زندگی بخشنے والا اور زندہ رکھنے والا خدا فرماتا ہے۔وَلَاتَّقُولُوا لِمَن يُقْتَل فِي سَبِيلِ الله اَمْوَات بَلْ أَحْيَاء (سورة البقره آیت ۱۴۹) خدا کی راہ میں قتل ہونے والوں کو مردہ مت کہو۔وہ زندہ ہیں۔پس جس موت کو خدا تعالیٰ حیات قرار دے اور جس قتل کو خدا تعالیٰ زندگی فرمائے۔اس کے متعلق کیا شک وشبہہ رہ جاتا ہے۔(۴۹) اگر چہ حکومت کا بل نے ہمارے نہایت ہی محترم اور عزیز بھائی مولوی نعمت اللہ خان