شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 264
264 لیکن جابر اور ظالم قاتلوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ گو اس وقت دنیاوی لحاظ سے اس بے گناہ کے خونِ ناحق کا بدلہ لینے والا کوئی نہیں ہے۔لیکن اس خون کے دھبے تاقیامت ان کی آستینوں سے چھٹ نہیں سکتے اور یہ قتل رنگ لائے بغیر نہیں رہے گا۔کیا سرزمین کا بل کو یاد نہیں کہ حضرت سید عبداللطیف صاحب کو شہید کرنے والوں کا کیا انجام ہوا اور ان کی ہلاکت اور تباہی کیسے عبرت ناک طریق سے ہوئی۔۔۔سید صاحب شہید تو خوشی اور مسرت کی حالت میں نہایت اطمینان اور سکینت کے ساتھ اپنی جان جان دینے والے کے سپرد کرتے ہیں اور اس میں ایسی لذت اور اتنا سرور پاتے ہیں کہ کسی قسم کی تکلیف اور رنج کے آثار بھی ان کے بشرہ پر ظاہر نہیں ہوتے لیکن ان کے قاتل اور قتل میں مؤید نہایت حسرت اور اندوہ کے ساتھ کیفر کردار کو پہنچتے ہیں۔شہید مرحوم کے قاتلوں کو دنیا جانتی ہے اور تا قیامت ان کی جفا کاری اور ستم شعاری پر لعنت بھیجتی رہے گی۔۔۔اس نمونہ اور اس عبرت ناک مثال کے موجود ہوتے ہوئے موجودہ والٹی کا بل نے وہی راہ اختیار کی جو اس کے باپ اور دادا نے اختیار کر کے اپنی عاقبت خراب کر لی تھی اور نہایت بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ نعمت اللہ خان کو قتل کرا دیا ہے۔اس قتل پر ہماری ساری جماعت کو صدمہ ہوا ہے اور بے انتہاء صدمہ ہوا ہے کیونکہ ہمارا ایک ایسا بھائی ہم سے جدا ہو گیا جو دین کی خاطر اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر کابل کی سنگلاخ زمین میں مردانہ وار داخل ہوا تھا اور خاص دارالسلطنت میں رہ کر حق کی اشاعت اور صداقت کی تبلیغ کرنے پر کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے مرعوب نہ کر سکی۔اس کی یہ مثال یہ جرات ، یہ حوصلہ اور یہ فدا کاری، ہمارے اندر جوش اور ولولہ پیدا کرتی اور ہماری ہمتوں اور ارادوں کو خطرات کے مقابلہ میں بلند ہونے کی دعوت دیتی تھی۔لیکن اس شہادت نے۔۔ہمارے دلوں میں کسی قسم کا خوف ، کوئی خطرہ ، کوئی ڈریا کسی نوع کی مایوسی پیدا کرنے کے بجائے ایسی پر زور لہر پیدا کر دی ہے جو۔۔۔۔حضرت سید عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے پیدا ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام