شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 263 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 263

263 صاحب یا امیر عبدالرحمن خان صاحب مولوی نعمت اللہ خان صاحب ، صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب اور ملا عبد الرحمن کے قتل کرنے والے نہیں ہیں۔بلکہ ان کے اصل قاتل وہ گندے خیالات اور وہ غلط عقیدے اور وہ خراب تربیت ہے جو ان لوگوں کی ہوئی۔اگر ان باتوں کو بدل دو تو کیا اس کے ساتھ ہی یہ لوگ بھی بدل نہ جائیں گے۔۔۔۔ہمارے جو بھائی کابل میں شہید کئے گئے ہیں ان کا انتقام لینا ہم پر فرض ہے۔مگر آدمیوں سے نہیں بلکہ وہ انتقام ان بد خیالات اور ان جہالتوں سے لینا ہے۔جو کابل میں پھیلی ہوئی ہیں۔اور وہ انتقام یہی ہے کہ ان غلط خیالات اور بد عقائد کو مٹائیں جن کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔‘ (۴۸) مولوی نعمت اللہ خان احمدی شہید کی سنگساری پر ہندوستان اور بیرون ہند اخبارات ور سائل کے تبصرے کا بل میں قابل فخر نعمت اللہ کی شہادت، کابل کی سنگلاخ زمین میں ایک اور بے گناہ کا خون، احمدیوں کے ساتھ کابل کا وحشیانہ سلوک اخبار الفضل 9 ستمبر ۱۹۲۴ ء یوم سہ شنبہ لکھتا ہے کہ کابل کی جابر اور ظالم حکومت نے ہمارے نہایت ہی عزیز اور مکرم بھائی نعمت اللہ خان کو محض احمدی ہونے کی وجہ سے نہایت وحشیانہ طریق سے سنگسار کر کے شہید کر دیا۔اس وقت تک ہمیں جو اطلاع پہنچی ہے یہ ہے کہ۔۔۔یکم اگست ۱۹۲۴ء کو یہ ظالمانہ قتل کیا گیا۔اس معصوم اور بے گناہ قتل کی تفاصیل جب معلوم ہوں گی۔اس وقت بیان کی جائیں گی۔حکومت کا بل اپنی بداعمالیوں اور بد کرداریوں کی وجہ سے ان دنوں جن مصائب اور آلام میں گھری ہوئی ہے اور جن کا کچھ نہ کچھ اخبارات میں ذکر آتا رہتا ہے۔ان سے مخلصی پانے اور عوام کو جنہوں نے امیر کابل کے احمدی ہونے کی افواہ بھی اڑائی تھی۔مطمئن کرنے کے لئے ہمارے بھائی کے خونِ ناحق سے اپنے ہاتھ رنگے گئے ہیں۔اور اس غریب اور بیکس کے متعلق یہ سمجھ کر کہ دنیا میں اس کی داد فریاد سننے والا کون ہے۔اپنی بداعمالیوں کی پردہ پوشی کے لئے اسے قربان کیا گیا ہے۔