شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 261
261 ، کے الفاظ ہیں۔ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کے لئے ایک وقفہ ہے۔جس کے بعد اس کے لئے عذاب مقدر ہے۔ورنہ شہید اپنی قوم سے کاٹے نہیں جاتے بلکہ ان کا تعلق قائم رہتا ہے۔یہ قطع تعلق وقفہ پر دلالت کرتا ہے۔اور اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ وقفہ ہو جس میں آبپاشی ہوا ور اور شاخیں پیدا ہوں۔پھر اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاخیں یہاں تیار ہوں کیونکہ یہ کہا گیا ہے کہ اس شاخ کو یہاں لگا دو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں اسکیم یہاں سے تیار کر کے بھیجنی پڑے گی۔پس یہ رویا نہ صرف ایک عظیم الشان واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اور یہ الہام نہ صرف ایک اور واقعہ شہادت کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ ایک وقفہ ہوگا۔اور اس بارے میں یہاں سکیم تیار کرنی چاہئے۔اب موجودہ زمانہ میں ایسا ہی ہے۔گو مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کا واقعہ ایسا درد ناک واقعہ ہے۔کہ جب بھی اس کی طرف خیال کیا جائے۔طبیعت بے چین ہو جاتی ہے۔لیکن اگر کام کرنے والا انسان ہو تو اس کا فرض ہے کہ اپنے جذبات کو سنبھالے اور انہیں قابو میں رکھے۔اسی طرح اگر کسی قوم نے کام کرنا ہو تو اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ اپنے جذبات اور احساسات کو روک کر رکھے۔آنکھوں کے آنسو خدا تعالیٰ نے ایسا پانی پیدا کیا ہے کہ جو دل کی آگ کو بجھائے۔مگر جب انسان کا منشا یہ ہو کہ دل کی آگ کو بجھانا نہیں بلکہ اور زیادہ بھڑکانا ہے تو ضروری ہے کہ آنسوؤں کو روکے۔بے شک بچہ کی موت پر انسان روسکتا ہے کیونکہ بچہ کی یاد کو قائم رکھنے والی کوئی چیز نہیں۔اور اس وجہ سے اس کی موت نے جو آگ پیدا کی ہے۔اسے بجھنے دینا چاہئے۔اسی طرح میاں بیوی کے مرنے پر اور بیوی میاں کے مرنے پر رو سکتے ہیں۔اور اپنی آنکھ کے آنسوؤں سے جدائی کی آگ کو کم کر سکتے ہیں۔مگر وہ شخص جس نے خدا کو جان دی وہ خدا کے رستہ میں مارا گیا اس کے نام اور کام کو بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔اس کا یاد رکھنا ہمارا فرض اور بہت بڑا فرض ہے۔اور جن لوگوں نے جن خیالات اور احساسات نے جس گندی تربیت نے ، جن غلط عقائد نے اس کے قتل کی