شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 25
25 مہربانی ہوگی۔چنانچہ حضور نے وہ پوستین خواجہ صاحب کو دے دی۔‘ (۲۰) ۳) محمد رحیم الدین صاحب احمدی ، متوطن حبیب والا ضلع بجنور یو پی بیان کرتے ہیں کہ وہ ماہ اگست ۶ ۱۸۹ء میں قادیان حاضر ہو کر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔اور ایک ہفتہ قادیان میں قیام کیا تھا۔ان دنوں میں مولوی عبد الرحمن کا بلی بھی قادیان آئے تھے اور حضوڑ کے واسطے ایک جوڑا جوتا جو کامدار اور قیمتی تھا ، لائے تھے۔محمد رحیم الدین صاحب نے احباب سے ان کے بارہ میں پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں تو انہیں بتایا گیا کہ یہ مولوی عبد الرحمن صاحب ہیں جو کا بل سے آئے ہیں۔(۲۱) مولوی عبد الرحمن صاحب گورداسپور میں (۴) اگست ۷ و ۸اء میں عیسائی پادری ڈاکٹر مارٹن کلارک نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایک جھوٹا فوجداری مقدمہ کیا اور یہ شکایت کی کہ مرزا نے مجھے قتل کرنے کے لئے ایک آدمی بھجوایا ہے۔اس موقعہ پر آریہ سماج کے لیڈ ر لالہ رام بھیج دت اور پنجاب کے اہل حدیث کے لیڈر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے عیسائیوں سے تعاون کیا اور ہر ممکن کوشش کی کہ حضور کو سزا دلوائیں۔لالہ جی نے پادری صاحب کی پیروی خود خواہش کر کے مفت کی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے رضا کارانہ طور پر عدالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں بیان دینے پر کمر باندھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام انّى مهينٌ مَنْ اَرَادَ اهَانتک کے مطابق مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی ذلت کا سامان کمرہ عدالت میں ہی کر دیا۔جو نہی مولوی محمد حسین صاحب کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو انہوں نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مسٹرولیم مانٹیگو ڈگلس سے اپنے بیٹھنے کے لئے گر سی کا مطالبہ کیا۔جسے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے منظور نہ کیا۔لیکن مولوی صاحب نے اصرار کیا۔اس پر ڈگلس صاحب نے مولوی صاحب کو اونچی آواز میں نہایت سخت الفاظ میں ڈانٹ پلائی۔اس وقت عدالت میں اور اس