شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 253
253 مگر یہ افعال ہمیں اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔نہ پہلے شہیدوں کی موت سے ہم ڈرے ہیں اور نہ یہ واقعہ ہمارے قدم کو پیچھے ہٹا سکتا ہے۔چنانچہ اس دل ہلا دینے والے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی، مجھے تار کے ذریعہ سے بائیس آدمیوں کی طرف سے درخواست ملی ہے کہ وہ افغانستان کی طرف مولوی نعمت اللہ خان کا کام جاری رکھنے کے لئے فوراً جانے کو تیار ہیں۔اور ایک اور درخواست یہاں انگلستان میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بارایٹ لاء، ایڈیٹر انڈین کیسز نے اسی مضمون کی دی ہے۔وو پس جو غرض ان قتلوں سے ہے وہ ہرگز پوری نہ ہو گی۔ہم آٹھ لاکھ آدمیوں میں سے ہر ایک خواہ مرد ہو خواہ عورت خواہ بچہ اس راستہ پر چلنے کے لئے تیار ہے۔جس پر نعمت اللہ خان شہید نے سفر کیا۔اب میں اس امید پر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ مذہبی آزادی کے دلدادہ اس موقع پر وہ کم سے کم خدمت کر کے جو آزادی کی راہ میں وہ کر سکتے ہیں۔اپنے فرض سے سبکدوش ہو نگے۔یعنی اس فعل پر نا پسندیدگی کا اظہار کریں گے۔قو میں الگ ہوں ، حکومتیں الگ ہوں مگر ہم سب انسان ہیں۔ہماری انسانیت کو کوئی نہیں مارسکتا۔ہماری ضمیر کی آزادی کو کوئی نہیں چھین سکتا۔پس کیا انسانیت اس وقت ظلم پر اپنی فوقیت کو بالا ثابت کر کے نہیں دکھائے گی (۴۳) مولوی نعمت اللہ خان کی شہادت پر سید نا حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کا احباب جماعت کے نام ایک پیغام مورخه ۱۸ اکتو بر ۱۹۲۴ء کو حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لندن سے ایک ٹیلی گرام بھجوایا جو ۱۲ را کتوبر کو قادیان پہنچا۔اس میں منجملہ دیگر امور کے حضور نے احباب جماعت کے نام یہ پیغام دیا کہ تمام بھائیوں کو اطلاع دے دی جائے کہ میں ان کا شکر یہ ادا کرتا ہوں جو انہوں