شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 236
236 حضور نے فرمایا کہ اسلامی حکومت کے نقصان کو تو ہم لوگ کسی صورت میں بھی گوارا نہیں کر سکتے۔اور باوجود مخالفت اور تکالیف کے بھی ہم چاہتے ہیں کہ اسلامی وقار جہاں تک ممکن ہو اور اسلامی شوکت جہاں تک رہ سکے۔قائم رکھنے میں مدد کریں۔مگر جہاں حق اور صداقت کا سوال آ جائے اور ان چیزوں کو کسی وجود سے نقصان پہنچے یا حق وصداقت کے راستہ میں اگر کوئی چیز روک ہو تو اس کی ہم لوگ پھر بالکل پرواہ نہیں کرتے۔ان باتوں کو سن کر وہ شخص بڑا متاثر ہوا اور اسنے کہا کہ آپ لوگ حق پر ہیں میں آپ کے ساتھ ہوں اور پوری خدمت اور مدد کے لیے حاضر ہوں ڈیڑھ بجے کے قریب حضور اس کی ملاقات سے فارغ ہوئے (۳۶) ۱۲ ستمبر ۱۹۲۴ء لندن میں سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا خطبہ جمعہ وو اگر کوئی شخص خدا کے لیے جان دیتا ہے تو وہ جان دے کر اس کے فضل کو پہلے سے زیادہ پاتا ہے۔اور اس کے قریب تر ہو جاتا ہے۔سب سے بڑی قربانی جان دے دینا ہے یا جان دیدینے کے خوف سے مرعوب نہ ہونا۔مگر حقیقت کیا ہے کیا اس قربانی سے ہم نقصان اٹھاتے ہیں یا ترقی کرتے ہیں۔خدا کے لئے جان دے کر انسان خدا کے اور قریب ہو جاتا ہے۔پس کوئی زمانہ اور کوئی قربانی ہماری راہ میں روک نہیں۔ایک شاعر کہتا ہے۔وو جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو ہے کہ حق ادا نه ہوا۔پس جب یہ صورت ہے تو مومن کو چاہئے کہ اس کی ساری قربانیاں خدا ہی کے لئے ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ کے انعامات کا سلسلہ اور اس کے صحیح بدلہ کا خاتمہ نہیں ہوتا۔مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔خدا کی طرف سے جو انعام مرنے والوں کو ملتا ہے۔وہ