شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 231 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 231

231 فیصلہ علماء اعلام وفضلائے کرام محکمہ شرعیہ ابتدائیہ حقوق و جزا و فیصله مرافعہ مرکزی کابل و فیصله عدالت عالیہ تمیز وزارت جلیلہ عدلیہ سنگسار کیا گیا ہے۔اس سیاہ روزگار بدکردار کی سنگساری کے موقع پر ملکی اور فوجی لوگوں کی ایک بڑی جماعت اور ایک جم غفیر موجود تھا۔یه بد بخت تا دم آخرین اپنی ان ہرزہ سرائیوں اور یاوہ گوئیوں سے جن کا وہ معتقد تھا ( نعوذ باللہ من ذالک ناقل ) باز نہ آیا۔اور اگر چہ ایسے مجرموں کی تو بہ بھی شرعاً قابل پذیرائی نہیں ہے لیکن یہ بد آئین تو اپنے اقرارات باطلہ پر پختگی سے قائم رہا اور تا دم مرگ تا ئب نہ ہوا۔آخر چند لمحوں کے اندر ہمارے احکام دینیہ و قواعد شرعیہ کے مطابق ایسے طور پر پتھروں کی بارش ہونے لگی اور وہ سنگسار کر دیا گیا کہ اس کے وجود سرا پا مطرود پر پتھروں کا ایک بڑا ڈھیر لگ گیا۔“ جب حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مولوی نعمت اللہ خان کی شہادت کی اطلاع لندن میں ملی لندن ۳ ستمبر ۱۹۲۴ء " آج عصر کی نماز سے قبل حضرت مولوی شیر علی صاحب کا تارنعمت اللہ خان شہید کابل کی خبر شہادت لے کر آیا۔حضرت کو اس خبر کے سننے سے سخت صدمہ ہوا۔ہم محسوس کرتے تھے کہ حضرت کو اس قدر تکلیف اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی ہم نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے کہ آپ کے بچے نے وفات پائی اور آپ ایک نہایت سکون اور اطمینان کے ساتھ اسے دفن کر رہے ہیں۔مگر اس خبر نے آپ کے قلب پر جو اثر کیا وہ بہت بڑھ کر تھا اور حقیقت میں یہی ایک چیز ہے جو ہماری زندگی کا موجب ہے۔حضرت کو نعمت اللہ خان کی ایمانی قوت مستقل مزاجی۔وفاداری اور خدا کے لیے کامل قربانی پر تو اطمینان تھا اور ہے اور جو نمونہ اس نے جماعت کے لیے قائم کیا وہ ایک