شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 22 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 22

22 22 علاقہ کی نشان دہی کی گئی تو خوست کے گورنر سردار شیر میں دل خان اور حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف شہید نمائندہ مقرر ہوئے۔پشاور میوزیم میں ایسا ریکارڈ موجود ہے۔جس سے اس کام میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی شرکت ثابت ہوتی ہے۔تاریخ احمدیت جلد نمبر ۳ میں ایسے تین خطوط کی نقل موجود ہے۔ان میں سے ایک خط سردار شیر میں دل خان گورنرخوست کا ہے۔جس کی تاریخ ۱۸ جون ۱۸۹۴ء ہے۔دوسرا خط ، مسٹر جے ایس ڈونلڈ کا ہے۔جو کمشنر پشاور ڈویژن کے نام ہے۔اس کی تاریخ ۲۸ جولائی ۴ ۱۸۹ء ہے۔تیسرا خط بھی مسٹر ڈونلڈ کا ہے اور وہ بھی پشاور ڈویژن کے کمشنر کے نام ہے اور اس کی تاریخ ستمبر ۱۸۹۴ء کی ہے۔ان تینوں خطوں میں حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف کا ذکر موجود ہے۔(۱۶) ڈیورنڈ لائن کی حد بندی کا سید احمد نور صاحب نے بھی ذکر کیا ہے۔وہ بیان کرتے ہیں : میں اس زمانہ میں صاحبزادہ صاحب کے پاس چلا گیا تھا اور ان سے سبق پڑھتا تھا۔خوست ،ٹل ، دوڑ کی سرحد بندی کے بعد آپ پیواڑ کو تل اور پاڑہ چنار کے علاقہ میں پہنچے۔اس دوران ٹل کے مقام پر ایک شخص نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک کتاب حضرت صاحبزادہ صاحب کو دی۔میں اس وقت موجود نہیں تھا یہ کتاب میرے سامنے نہیں دی گئی تھی۔حضرت صاحبزادہ صاحب یہ کتاب لے کر اپنے گاؤں سید گاہ آئے اور بڑی خوشی کا اظہار کیا اور اپنے شاگردوں سے کہا کہ اسی کی ہمیں انتظار تھی۔اس کتاب کے اند رسب باتیں بالکل سچ ہیں۔ہمارے ساتھ اس وقت شہید مولوی عبد الرحمن بھی بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے بھی یہ باتیں سنیں مولوی عبدالرحمن نے کہا کہ میں جاؤں گا اور پتہ لاؤں گا۔اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے مولوی عبد الرحمن کو قادیان بھیج دیا اور تاکید کی کہ پوری تفتیش کرو اور پتہ لے کر آؤ۔(۱۷) چنانچہ مولوی عبد الرحمن صاحب قادیان گئے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملے اور چند ماہ بعد خوست واپس گئے اور حضرت صاحبزادہ صاحب کو تمام حالات سنائے اور حضور کی جو کتب وہ قادیان سے لے گئے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب