شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 217
217 حصہ نہ لیں۔اس بناء پر احمدیانِ خوست امیر امان اللہ خان کے خلاف بغاوت سے الگ رہے اور باغیان کو بتا دیا کہ وہ اپنے مذہبی اصولوں کی وجہ سے اس بغاوت میں شامل نہیں ہو سکتے۔باغیوں نے جب یہ دیکھا کہ احمدی ان کا ساتھ نہیں دے رہے تو انہوں نے وہاں کے احمدیوں کے خلاف کا رروائی شروع کر دی۔احمدیوں کو مارا پیٹا اور لتاڑا ان کی جائدادوں کو لوٹا اور مکانوں کو جلایا۔اس وجہ سے بعض احمدی خوست کا علاقہ چھوڑ کر ہندوستان ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔باغی اب تک تو امیر امان اللہ خان کو دیگر وجوہات کی بناء پر کافر قرار دے رہے تھے۔اب انہوں نے یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ دراصل امیر امان اللہ خان بھی احمدی ہے۔یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے احمدی اس کے خلاف ہمارے ساتھ بغاوت میں شامل نہیں ہوتے اور یہ کہ کابل میں احمد یہ مشن کھلا ہوا ہے اور حکومت اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔امیر امان اللہ خان نے باغیوں کو سمجھانے اور بغاوت فرو کرنے کے لئے سردار علی جان اور بعض دیگر سرداروں کو خوست بھجوایا تھا۔ان لوگوں نے ملا عبداللہ عرف ملائے لنگ اور ملا عبدالرشید عرف ملائے دبنگ کو سمجھا بجھا کر کابل آنے اور بغاوت کا راستہ چھوڑنے پر آمادہ کر لیا۔اس موقعہ پر باغیوں نے یہ مطالبہ پیش کیا تھا کہ امیر امان اللہ خان کو چاہئے کہ جس طرح امیر عبدالرحمن اور امیر حبیب اللہ خان نے بعض احمد یوں کو قتل کروا دیا تھاوہ بھی افغانستان کے احمدیوں کو قتل کروائے۔اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ خود احمدی نہیں ہے جیسا کہ اس کے بعض کا موں اور پالیسیوں سے سمجھا جاتا ہے مثلاً اس نے کابل میں احمدیوں کو مذہبی آزادی دے رکھی ہے اور ان کا مبلغ بھی کا بل میں موجود ہے۔سردار علی احمد جان نے بھی اس کی تائید کی امیر امان اللہ خان نے اس ظالمانہ شرط کو تسلیم کرلیا اور امیر نے اپنے ماتحت کارکنوں اور پولیس وغیرہ کو اجازت دیدی کہ وہ احمدیوں کو گرفتار کریں ان پر مقدمات بنائیں اور اگر کابل کی عدالتیں ان کے قتل کے فیصلے کریں تو اس کو