شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 203 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 203

203 امیر حبیب اللہ خان کا تیسرا بیٹا تھا اس نے شاہی خزانہ اور آرمی ہیڈ کوارٹر اور اسلحہ خانہ اپنے قبضہ میں لے لئے۔اور خود بادشاہ بننے کے لیے کوششیں شروع کر دیں اس وقت سردار نصر اللہ خان جلال آباد میں بیٹھا رہا اس کو مشورہ دیا گیا کہ کابل روانہ ہو جائے لیکن وہ نہ مانا۔امان اللہ خان نے فوج کی امداد حاصل کرنے کی بھی کوشش کی فوجیوں کو یہ پیش کش کی گئی کہ آئندہ سے ان کی ماہوار تنخواہ گیارہ روپیہ سے بڑھا کر بیس روپیہ کر دی جائیگی۔امان اللہ خان کی والدہ علیا حضرت کا اثر و رسوخ بھی اس کے حق میں مفید ثابت ہوا۔مندرجہ بالا وجوہ کی بناء پر کا بل میں موجود فوج نے امان اللہ خان کو فوراً امیر تسلیم کر لیا۔جلال آباد کے علاقہ میں فوجیوں نے نہ صرف امیر امان اللہ خان کی بادشاہت کو تسلیم کیا بلکہ ان لوگوں کو بھی گرفتار کر لیا جن پر امیر حبیب اللہ خان کے قتل کا شبہ تھا۔اس پر سردار نصر اللہ خان دستبردار ہو گیا اور اس کو قیدی بنا کر کابل لے جایا گیا۔ایک بات بہت نمایاں نظر آتی ہے کہ امیر امان اللہ خان نے اپنی امارت کا جو اعلان کیا تھا اس میں قوم کو مخاطب کیا گیا تھا اور اس کے دوسرے حصہ میں فوج مخاطب تھی لیکن اس اعلان میں مذہبی علماء سے خطاب نہیں تھا۔یو امیر امان اللہ خان کی حکومت بغیر کسی ظاہری مخالفت کے تمام ملک میں تسلیم کر لی گئی۔امیر امان اللہ خان نے تمام صوبوں کے گورنر بدل دیئے۔اور ان میں مصاحبین کے خاندان کے آدمی لگائے گئے۔سوائے صوبہ قندھار کے اس میں لوہ ناب خوش دل خان کو گورنر مقر ر کیا گیا۔یہ شخص امیر امان اللہ خان کی والدہ علیا حضرت کا سوتیلا بھائی تھا۔عزیز ہندی علیا حضرت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ وہ قندھار کے ایک اثر و رسوخ والے خاندان سے تھیں اور امیر حبیب اللہ خان کی چہیتی بیوی تھیں اور ان کو اس کے عہد میں بڑا اقتدار حاصل تھا۔لیکن بعد میں علیا حضرت امیر کی نظروں سے گر چکی تھیں۔یہاں تک کہ اس نے ان کو شاہی محل سے بھی نکلوا دیا تھا۔سنا جاتا ہے کہ وہ اس بے عزتی کو ملا یہ بات لکھنے سے Sir Percy کا یہ منشاء معلوم ہوتا تھا کہ امیر امان اللہ خان شروع سے ہی آزاد خیال تھا اور ملاؤں کے سیاسی اثر ورسوخ کا مخالف تھا۔