شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 201 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 201

201 سردار نصر اللہ خان اور اس کے ساتھیوں کا انجام جب سردار نصر اللہ خان اور دوسرے سردار کابل لائے گئے تو ان کے بارہ میں تحقیقات کروائی گئی اور ان پر جرم ثابت کر کے امیر امان اللہ خان نے سردار نصر اللہ خان کو تو ایک بُرج میں قید کر وا دیا۔مستوفی الملک مرزا محمد حسین کو قتل کروا دیا گیا اور اس کی تمام جائیداد اور مال ضبط کر لیا گیا اور سردار عنایت اللہ خان کو کابل میں نظر بند کر دیا گیا۔بیان کیا جاتا ہے کہ صدمہ سے سردار نصر اللہ خان کا ذہنی توازن بگڑ گیا اور وہ مخبوط الحواس ہو گیا کچھ عرصہ بعد اسے رات کے وقت سانس بند کر کے مار دیا گیا۔یہ واقعہ ۱۹۱۹ ء یا ۱۹۲۰ ء کا ہے۔سردار نصر اللہ خان کو کسی جگہ دفن کر کے اس کی قبر معدوم کر دی گئی۔سردار نصر اللہ خان کے قتل کے بعد اس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی عالیہ بیگم زندہ تھی۔کچھ عرصہ بعدا میر امان اللہ خان نے اپنے چچا کے بیٹے کو بھی مخفی طور پر قتل کروا دیا۔سردار نصر اللہ خان کی بیٹی کافی عرصہ زندہ رہی امیر امان اللہ خان نے اسے شادی کا پیغام دے دیا لیکن عالیہ بیگم نے اس بناء پر کہ وہ اپنے والد اور بھائی کے قاتل کے ساتھ شادی نہیں کر سکتی انکار کر دیا۔لیکن امیر امان اللہ خان کا اصرار جاری رہا بالآخر عالیہ بیگم مان گئی اور امیر امان اللہ خان نے اپنی پہلی ملکہ ثریا بیگم کی مخالفت کے سبب اس سے خفیہ نکاح کر لیا۔ملکہ تر یا سردار محمود خان طرزی کی بیٹی تھی۔امیر امان اللہ خان کے دو بھائی سردار عنایت اللہ خان اور سردار حیات اللہ خان دونوں کافی عرصہ نظر بندر ہے۔عزیز ہندی صاحب جو اس وقت افغانستان میں موجود تھے اور ان واقعات کے شاہد ہیں لکھتے ہیں کہ سردار عنایت اللہ خان دستور بادشاہی کے مطابق افغانستان کے تاج و تخت کے حقیقی وارث تھے یہ اپنے والد امیر حبیب اللہ خان کے قتل ہونے کے وقت ان کی معیت میں تھے اور اپنے چا سردار نصر اللہ خان کے زیر اثر تھے۔اور اپنے چچا کے حق میں جلال آباد میں سلطنت افغانستان سے دستبردار ہو چکے تھے اگر اس وقت وہ اپنے چچا کے بجائے بادشاہ بن