شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 200
200 جلال آباد میں ہونے والے تمام واقعات کا با چشم تر تذکرہ کیا اور کہا کہ ملک کا بادشاہ اور ہما را باپ کمپرسی کی حالت میں قتل کر دیا گیا ہے سردار نصر اللہ خان نے نہ تو قاتل کی گرفتاری کے لیے کوشش کی اور نہ ولی عہدی کے بارہ میں امیر حبیب اللہ خان کی وصیت کی پرواہ کی بلکہ پ اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کروا دیا کیا ان حالات سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ دراصل یہ قتل سردار نصر اللہ خان نے کروایا ہے کیا جو کچھ ہوا درست ہوا ؟ اس پر حاضرین نے کہا کہ درست نہیں ہوا۔اس پر امان اللہ خان نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ لوگ میرا ساتھ دیں ہم مظلوم ہیں اور قصاص لینے میں ہماری اعانت کریں۔حاضرین نے اس سے اتفاق کیا اور اس موقعہ پر امیر امان اللہ خان کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس کو افغانستان کا بادشاہ تسلیم کر لیا۔امیر امان اللہ خان نے امیر بن کر ان اراکین سلطنت کی اولادوں کو اپنے زیر نگرانی رکھ لیا جو اس وقت سردار نصر اللہ خان کے حامی تھے اور ان کے گھروں اور جائیدادوں پر قبضہ کر لیا۔علاوہ ازیں اس نے کابل میں موجود اسلحہ کے ذخائر اور خزانہ بھی اپنے تصرف میں لے لئے۔اس نے جلال آباد میں ایک فرمان شاہی بھجوایا اور سردار نصر اللہ خان اور اس کے حامیوں سردار عنایت اللہ خان اور مستوفی الملک مرزا محمد حسین کو مطلع کیا کہ وہ لوگ حکومت کے باغی اور امیر حبیب اللہ خان کے قاتل ہیں اس لیے فور اسردار نصر اللہ خان دعوای بادشاہی سے دستبردار ہو اور وہ اور اس کے ساتھی پابجولاں کا بل میں حاضر ہوں اور اپنی صفائی پیش کریں اس فرمان کے ملنے پر سردار نصر اللہ خان اور اس کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو بے بس پایا۔سردار نصر اللہ خان نے اپنی دستبرداری کا اعلان کر دیا اور یہ تینوں پابجولاں کابل لائے گئے۔