شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 199 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 199

199 خان کا بل میں اس کا قائمقام ہوتا تھا۔اپنی زندگی کے آخری سال ۱۹۱۹ء میں امیر حبیب اللہ خان کا بل کی سمت مشرق میں جلال آباد - کونڑ اور پغمان کے سرسبز و شاداب علاقہ میں سیرو تفریح کے لیے گیا اس موقعہ پر وہ اپنے بڑے بیٹے سردار عنایت اللہ خان کو اپنے ساتھ لے گیا اور اپنے تیسرے بیٹے سردار امان اللہ خان کو بجائے اپنے ساتھ لے جانے کے کابل کا گورنر بنا کر پیچھے چھوڑ گیا۔جو افسران اس کے ساتھ تھے ان میں جنرل محمد نادر خان - سردار نصر اللہ خان اور مستوفی الملک مرزا محمد حسین برگیڈیئر شامل تھے۔جب سیر و شکار کرتے ہوئے ایک مقام کلہ گوش میں پہنچا جو ایک خوبصورت تفریحی مقام اور شا ہی شکارگاہ ہے تو کیمپ لگانے کا حکم دیا اور چند روز وہاں قیام کرنا چاہا۔۲۰ فروری 1919 ء بروز جمعرات امیر اپنے خیمہ میں اپنی ملکہ علیاء حضرت کے ساتھ محو استراحت تھا کہ کسی نا معلوم دشمن نے باوجود پہرہ کے اور ہر قسم کے حفاظتی انتظامات کے اس کے کان میں پستول رکھ کر چلا دیا اور اس سے اسکی موت واقعہ ہو گئی۔امیر حبیب اللہ خان کی وفات کے بعد اصولاً اس کا بڑا بیٹا سردار عنایت اللہ خان مستحق تاج و تخت تھا۔لیکن سردار نصر اللہ خان نے جو امیر حبیب اللہ خاں کا چھوٹا بھائی اور سردار عنایت اللہ خان کا چا تھا اپنے بھتیجے کا حق غصب کر لیا - امیر حبیب اللہ خان کی لاش جلال آباد کے قریب دفن کروا کر اپنی بادشاہت کا اعلان کروایا۔اسنے امیر حبیب اللہ خان کے قتل کیسے جانے کی اطلاع اور اپنے بادشاہ بن جانے کی خبر وائسرائے ہند کو بھی کر دی اور ان کی تائید و توثیق کا خواہاں ہوا۔سردار امان اللہ خان کو جب یہ علم ہوا کہ اسکا باپ اور ملک کا بادشاہ با وجود سردار نصر اللہ خان اور دیگر سرداروں کی موجودگی کے کسمپرسی کی حالت میں مارا گیا اور نصر اللہ خان بجائے قاتل کی گرفتاری کے لیے تگ و دو کرنے کے ولی عہد کا حق غصب کر کے خود بادشاہ بن بیٹھا ہے تو سردار امان اللہ خان اور کابل میں موجود دیگر سرداران شک وشبہ میں مبتلا ہو گئے سردار امان اللہ خان نے سردار عبد القدوس خان شاہ عاصی کے مشورہ سے کابل میں موجود اراکین سلطنت - رؤسا اور علماء کا اجلاس طلب کیا اور ان کے اجتماع میں علاقہ