شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 186 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 186

186 چل کر علاقہ بنوں میں جہاں خاندان کی اپنی جاگیر ہے پہنچ گئے۔آخری دفعہ جب صاحبزادگان کو قید کیا گیا تھا تو اس کا علم ہونے پر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میاں نیک محمد صاحب غزنوی کو قادیان سے ان کے حالات دریافت کرنے کے لئے بھجوایا تھا اب جب سارا خاندان بنوں کے علاقہ میں آ گیا تو حضور نے ان کو خوش آمدید کہنے کے لئے نیک محمد خان صاحب غزنوی کو بنوں کے علاقہ میں بھجوایا۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ محمد عبداللطیف صاحب کے دو صاحبزادے سید ابوالحسن قدسی اور سید محمد طیب جان نیک محمد خان صاحب غزنوی کے ساتھ قادیان آگئے۔۱۹۲۶ء میں خاندان کے وہ افراد جو افغانستان سے نکل کر بنوں کے علاقہ میں سرائے نورنگ مقام پر آئے ان میں حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب شہید کے خاندان کے مندرجہ ذیل تیرہ افراد تھے۔(۱) صاحبزادہ سید محمد عبد السلام جان صاحب (۲) صاحبزادہ سید احمد ابوالحسن قدسی صاحب (۳) صاحبزادہ سید محمد طیب جان صاحب (۴) اہلیہ محترمہ حضرت صاحبزادہ سید محمد عبداللطیف شہید جو صاحبزادہ سید محمد طیب جان کی والد تھیں۔(۵) صاحبزادہ سید محمد ہاشم جان ابن صاحبزادہ سید محمد سعید جان شہید کا بل (۶) اہلیہ صاحبہ سید محمد ہاشم جان صاحب (۷) (۸) صاحبزادہ سید محمد ہاشم جان کی دو بیٹیاں (۹) (۱۰) صاحبزادہ سید محمد عبد السلام جان صاحب کے دو بیٹے جن کے نام سید ہبت اللہ اور سید حمایت اللہ ہیں (۱۱) ہمشیرہ صاحبہ حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب شہید (۱۲) (۱۳) ہمشیرہ صاحبہ کے دو بیٹے عبد الرب صاحب وعبد القدوس صاحب