شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 182
182 احمدیوں کو بھی اس بغاوت میں شریک ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن احمدیوں نے اپنے اس اصول کے تحت کہ حکومت وقت کے خلاف بغاوت کرنا ان حالات میں جائز نہیں اس میں شمولیت سے معذرت کر دی اور اس بغاوت سے الگ رہے اس پر باغیوں نے اس علاقہ کے احمدیوں کی جائدادوں اور املاک کو لوٹا اور احمدیوں کو لتاڑا اور اُن کو ایذائیں دینے لگے اس پر بہت سے احمدی برطانوی ہند کی طرف جانے پر مجبور ہو گئے باغیوں نے یہ بھی مشہور کیا کہ دراصل امیر امان اللہ خان خود بھی قادیانی ہے اسی لئے احمدی اس کے خلاف بغاوت میں شریک نہیں ہوتے اور یہ کہ کابل میں احمدیوں کا مشن مولوی نعمت اللہ خان کی سرکردگی میں موجود ہے۔اگر امان اللہ خان قادیانی نہیں تو اسے چاہیے کہ چند احمد یوں کو قتل کروائے جیسا کہ اس کے باپ امیر حبیب اللہ خان اور دادا میر عبدالرحمن خان نے قتل و سنگسار کروائے تھے۔اس پر امیر امان اللہ خان نے سردار علی احمد جان کو نظر بندی سے نکال کر سمت جنوبی بغاوت رفع کرنے کے لئے بھجوایا سردار علی احمد جان نے باغیوں سے گفت و شنید کی اور ان کی شرائط قبول کرلیں اور امیر امان اللہ خان نے بھی قرآن مجید پر قسم کھا کر یہ اقرار کیا کہ باغیوں کے لیڈروں کو کچھ نہیں کہا جائے گا چنانچہ وہ کابل جانے پر رضا مند ہو گئے امیر امان اللہ خان نے احمدیوں پر مظالم شروع کروا دیے چنانچہ پہلے تو ۱۹۲۴ ء میں احمدی مبلغ مولوی نعمت اللہ خان کو سنگسار کروا کے شہید کروا دیا پھر دو اور احمد یوں مولوی عبد الحلیم صاحب اور قاری نور علی صاحب کو مورخہ ۶ فروری ۱۹۲۵ء کو ایک ہی دن میں سنگسار کر وا دیا۔خدا کے فضل سے ان تینوں نے احمدیت کی خاطر بڑی بہادری سے جان دی۔اگر چہ اس وقت حضرت صاحبزادہ صاحب کا خاندان براہِ راست ایذا دہی سے بچا رہا لیکن آئندہ ان کو بھی ظلم وستم کا شکار بنا پڑا جس کا ذکر آگے آئے گا۔(۴۶)