شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 181
181 کچھ افرا د حکومت میں ملازم ہونے ضروری ہیں۔اس پر میں ( یعنی صاحبزادہ سید ابوالحسن قدسی صاحب) سیکرٹری اور صاحبزادہ سید محمد طیب جان صاحب بطور صندوق دار یعنی خزانچی مقرر ہو گئے۔امیر الدین صاحب قریباً تین سال تک خوست میں حاکم رہے اور ہمیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہوئی۔اس دوران میں امیر امان اللہ خان نے سمت جنوبی کا دورہ کیا اور گردیز مقام پر اس نے تقریر کی کہ احمدی اچھے لوگ ہیں کیونکہ جس حکومت کے ماتحت رہتے ہیں اس کی فرماں برداری کرتے ہیں میں ان لوگوں کو پسند کرتا ہوں۔نوٹ از مرتب : یہ غالبا ۱۹۲۲ء کا ذکر ہے جب کہ حکومت افغانستان آزادی ضمیر مذہبی رواداری اور جمہوریت کی دلدادہ تھی اور نہ صرف اس کا اعلان کرتی تھی بلکہ اس کی عملی کوشش بھی تھی کہ افغانستان کے ملا نوں کو جو تعصب مذہبی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں دبایا جائے اور ایسے قوانین نافذ کئے جائیں جن سے عوام میں آزادی کا شعور ترقی کرے افغانستان کے بعض وزراء اور سیاسی لیڈر جن کے سر فہرست سردار محمود خان طرزی تھے اس پالیسی کو تیار کرنے والے اور اسے پروموٹ کرنے والے تھے اور ان کا اثر امیر امان اللہ خان بھی قبول کرتا تھا۔(۴۵) احمدیوں کے بارہ میں حکومت افغانستان کے رویہ میں سختی اور مظالم اور تشدد کی کارروائیاں افغانستان کے سمت جنوبی یعنی خوست پکتیا اور ملحقہ علاقوں میں آباد اقوام منگل، جدران چمکنی وغیرہ نے امیر امان اللہ خان کی آزاد پالیسیوں اور اصلاحات کو اپنے خیالات فرسودہ کے مطابق خلاف شریعت و قرآن قرار دے دیا اور امیر امان اللہ خان پر نہ صرف فتویٰ کفر لگایا بلکہ اپنے خیال میں اس کو قادیانی قرار دے دیا اس بغاوت کا سرغنہ ملائے عبداللہ ، ملائے لنگ اور اس کا داماد ملا عبد الرشید ملائے دنیگ تھا انہوں نے سمت جنوبی کے دوسرے ملاؤں اور پیروں سے مل کر کھلم کھلا آتش فساد اور بغاوت بلند کر دی۔انہوں نے خوست کے