شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 171 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 171

171 انتظار کرتے رہے لیکن وہ تین روز تک نہیں آسکا۔اس کے بعد اس کے اردلی نے بتایا کہ تمہارے بارہ میں کو توال کو حکم آیا ہے۔اور کو تو ال کو صرف ان لوگوں کے بارہ میں حکم آتا ہے جن کو قتل کرنا مقصود ہو تب ہم نے یہ یقین کر لیا کہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑا جائے گا اور موت کے ذریعہ ہماری رہائی ہو گی۔یہ معلوم کر کے ہمارا کھانا پینا سونا سب ہم پر حرام ہو گیا۔عجیب غم میں مبتلا ہو گئے۔اس کے بعد کو تو ال نے جیل کے داروغہ کو حکم بھجوایا کہ ان کو مسلح پہرہ میں جلدی کو توالی بھجوا دیا جائے۔ہم روانہ ہوئے اور ہمیں بالکل یقین تھا کہ اب ہمارے لئے موت کے علاوہ کچھ نہیں رہا۔جیل میں عبد السلام ، محمد طیب اور ابوالحسن قدسی متینوں کو نمونیہ ہو گیا تھا اور باقی سب بھی بیمار تھے۔کیونکہ قید خانہ میں سخت سردی تھی اور اس سے بچاؤ کا کوئی انتظام نہ تھا اور بڑی تعداد میں لوگ مر چکے تھے۔جب کو تو الی کو روانہ ہوئے تو ہمارے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں اور ہم بیماری کی وجہ سے ایک دوسرے پر گرتے تھے۔ہم سب میں محمد سعید کچھ بچے ہوئے تھے یعنی ان کی حالت قدرے بہتر تھی باقی سب بیمار تھے۔عبد السلام کی حالت تو نازک تھی۔کو توالی ، جیل سے تقریباً دو میل کے فاصلہ پر تھی۔بیٹریوں کی وجہ سے ہم سب کے پاؤں زخمی ہو چکے تھے۔ایک عجیب منظر تھا۔محمد عمر جان بخار کی تیزی کی وجہ سے گر پڑے ان کو عبدالسلام نے پکڑنے کی کوشش کی لیکن پکڑ نہ سکے اس پر ایک سپاہی نے مدد دی۔راستہ میں ہم کہتے تھے کہ کوتوالی جانے سے پہلے ہی اگر موت آجائے تو اچھا ہو۔جب کوتوالی پہنچے تو مرزا عبدالخالق جو کوتوال کا سیکرٹری تھا اس نے حکم دیا کہ بیڑیاں فوراً اتار دی جائیں۔اب ہمیں کچھ امید پیدا ہوئی۔جب بیڑیاں توڑنے لگے تو لوہار کا سامان خراب ہو گیا اس واسطے پھر ایک میل کا فاصلہ طے کر کے لوہار کی دوکان پر بیٹریاں تڑوائیں۔ابھی تک ہمارے اوپر پہرہ برقرار تھا۔اس کے بعد ہمیں محکمہ شرعیہ میں حاضر کیا گیا۔محکمہ شرعیہ میں قاضی عبدالشکور کی عدالت میں پیش کیا گیا قاضی نے پوچھا کہ تم فضل کریم قادیانی جو پنجابی ہے اس کو جانتے ہو؟ ہم نے کہا نہیں۔پھر پوچھا کہ تم لوگ قادیان گئے تھے ہم نے کہا نہیں۔تحقیقات مکمل ہونے پر پھر کو تو الی حاضر ہوئے اور وہاں رہا کئے جانے