شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 172 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 172

172 کا حکم ملا۔اس پر ہم آزاد ہوئے اور کابل میں اپنے گھر آئے صرف محمد سعید واپس قید خانہ میں گئے اور بستر وغیرہ سارا سامان دوسرے قیدیوں میں تقسیم کر دیا۔(۳۲) سید ابوالحسن قدسی کا جو بیان اخبار الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۲۶ء میں شائع ہوا ہے اس۔میں لکھا ہے کہ آخرامان اللہ خان کے ایک سیکرٹری کو ہم نے تین سو روپیہ دیا اور اس نے امان اللہ خان سے سفارش کروا کر ہمیں رہا کرا دیا۔(۳۳) - صاحبزادہ محمد عمر جان کی وفات قید خانہ میں صاحبزادہ محمد عمر جان بہت بیمار ہو گئے تھے اور رہائی کے وقت بھی بیمار تھے انہیں شدید بخار تھا۔اسی وجہ سے وہ رہائی کے بعد گھر پر چودہ دن بیمار رہ کر فوت ہو گئے۔إنا لله و انا اليه راجعون - (۳۴) اس آٹھ ماہ کے عرصہ میں اس قدر تکلیف دی گئی کہ جیل خانہ کی تکالیف کی وجہ سے ہمارے ایک بھائی محمد عمر صاحب بیمار ہو گئے اور آخر اسی بیماری سے فوت ہو گئے۔میں ابوالحسن بھی بیمار ہو گیا گو میں رہائی کے ایک ماہ بعد اچھا ہو گیا لیکن ان تکالیف کے اثرات تا حال میرے جسم پر موجود ہیں۔‘ (۳۵) صاحبزادہ محمد سعید جان کی وفات صاحبزادگان کی رہائی کے بعد سردار امان اللہ خان والی کا بل نے ہمارے گھرانے کو بعض شرائط پر اپنے وطن علاقہ خوست میں بھیجنا چاہا۔اس بارہ میں جو گفت شنید ہوئی اس میں صاحبزادہ محمد سعید جان نے کہا کہ جب تک ہماری جائداد واپس نہ کی جائے ہم اپنے وطن واپس نہیں جا سکتے ابھی یہ معاملہ زیر غور ہی تھا کہ صاحبزادہ محمد سعید جان فوت ہو گئے۔انا للہ و انا اليه راجعون (۳۶) قید خانہ سے نکلنے کے ایک سال بعد ہمارے سب سے بڑے بھائی محمد سعید صاحب فوت ہو گئے ان کے فوت ہونے کے بعد ۱۵، ۶ ا دن کے اندرا میر حبیب اللہ خان قتل ہو گئے (۳۷)