شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 170
170 اس کوشش کی وجہ سے اس نے ہمارے اس مہمان کو جو ہمارے ساتھ بلا وجہ قید کرلیا گیا تھا رہا کر دیا اور ہمیں یہ کہا کہ تم لوگوں کو تو سردار نصر اللہ خان نے قید کیا تھا اس لئے میں تمہارے واسطے ان سے ہی فیصلہ کرواؤں گا اور اس کو فون کر کے تم لوگوں کے بارہ میں حکم لے لوں گا۔آج جمعرات ہے میں پیر کے روز تک تمہاری رہائی کا حکم لے کر چھوڑوں گا۔اس پر ہم واپس آ گئے اور ہمیں (فوری رہائی نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی ہوئی۔صاحبزادہ سیدابوالحسن قدسی کا بیان ہے کہ سردار امان اللہ خان نے ہم سے اپنے سیکرٹری فقیر محمد خان کے توسط سے گفتگو کی تھی گفتگو کے وقت امان اللہ خان نے اپنا سر نیچے کیا ہوا تھا وہ ہماری یہ حالت دیکھ کر برداشت نہ کر سکا تھا۔اس وقت ہمارے بھائی محمد سعید صاحب کی عمر بائیس سال - محمد عبد السلام صاحب کی سولہ سال، محمد عمر صاحب کی پندرہ سال میری ( یعنی سید ابوالحسن قدسی کی ) چودہ سال اور محمد طیب کی ۱۲ سال تھی۔نوٹ : - سید احمد ابوالحسن قدسی کے اس بیان میں عمروں کی تفصیل غلطی سے درست نہیں لکھی گئی۔۱۹۱۸ء میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کو ۱۵ سال گزر چکے تھے اُس وقت بعض صاحبزادگان کی جو عمریں بتائی گئی تھیں وہ رسالہ کے شروع میں درج شدہ ہیں ان کو محوظ رکھتے ہوئے صاحبزادگان کی عمر میں ۱۹۱۸ء میں یہ ہونی چاہئیں۔صاحبزادہ سید محمد سعید جان ۳۷ سال- صاحبزادہ محمد عبد السلام جان اور صاحبزادہ محمد عمر جان صاحبزادہ سید محمد سعید جان سے چھوٹے تھے اور ان سے چھوٹے صاحبزادہ سید ابوالحسن قدسی تھے جن کی عمر ۱۷، ۱۸ سال اور صاحبزادہ محمد طیب جان ۱۶، ۱۷ سال کے ہوں گے۔بدھ کے روز ابراہیم جان نے اپنا اردلی عظیم گل نامی ہمارے پاس جیل میں بھجوایا اس نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم جان نے مجھے بھیجا ہے کہ مبارکباد دے دوں کہ آپ رہا ہو جائیں گے۔قید خانہ کے افسران میں سے ایک بادشاہ خان حوالدار تھا۔جس کا حضرت صاحبزادہ صاحب سے اچھا تعلق تھا ہم نے اس کو کہلا بھیجا کہ وہ معلوم کرے کہ کیا فیصلہ ہوا پہلے ہم اس کا