شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 169
169 علیا حضرت سے ناراضگی کی وجہ سے وہ جب ۱۹۱۸ء کی سردیوں میں سیر و تفریح اور شکار کے لئے پغمان کونٹر اور جلال آباد کے علاقہ میں گیا تو سردار عنایت اللہ خان کو اپنے ساتھ لے گیا اور سردار امان اللہ خان کو کابل میں چھوڑ گیا۔چونکہ سردار امان اللہ خان کا بل کا والی اور امیر حبیب اللہ خان کا قائمقام تھا اس لئے من جملہ دیگر امور کے کابل کے قید خانے بھی اس کے ماتحت ہو گئے۔سردار امان اللہ خان کی بیگم ثریا تھی جو سردار محمود خان طرزی کی بیٹی تھی اور امان اللہ سردارمحمود خان سردار محمود خان طرزی کے زیر اثر تھا۔سردار محمود خان طرزی ایک جدید خیالات والا آزادی ضمیر کا دلدادہ اور جمہوری سیاست میں یقین رکھنے والا سردار تھا اور کئی سال ملک شام میں رہ چکا تھا اُس کی کوشش اور خواہش تھی کہ افغانستان کا نظام بھی جدید ترقی یافتہ ممالک کے رنگ میں چلا یا جائے چونکہ سردار امان اللہ خان اس سے متاثر تھا اس لئے وہ بھی ان خیالات کا دلدادہ ہو گیا اور افغانستان میں حریت خیالات اور مذہبی آزادی پھیلانے کا خواہاں تھا۔اس لئے وہ انتظامی اور سیاسی امور میں نرمی برتا تھا۔اس نے کابل کے کوتوال کو حکم دیا کہ تمام قیدیوں کی فہرست پیش کرے تا کہ وہ قیدی جو سالوں سے جیلوں میں بند پڑے ہیں اور ان کے کیسز پر نہ غور ہوتا ہے اور نہ انہیں انصاف کے نقطہ نگاہ سے رہائی کی امید ہے۔ایسے قیدیوں کو اس کے حضور پیش کیا جائے تا کہ اُن کے بارہ میں جلد فیصلہ کر دیا جائے۔اس طرح تقریباً دوصد آدمی اس کے دربار میں حاضر کئے گئے وہ سارا دن دربار لگا تا۔اس طرح اس نے بہت سے قیدی رہا کر دیئے اور بعض قیدیوں کو انعامات سے بھی نوازا۔اس وجہ سے دوسرے قیدیوں اور ان کے دوستوں اور رشتہ داروں نے بھی کوششیں شروع کر دیں کہ جس طرح بھی ممکن ہو سردار امان اللہ خان کے دربار میں ان کی پیشی ہو جائے اور ان کے کیسز کا فیصلہ ہو کر وہ قید کی مصیبت سے نجات پائیں۔صاحبزادہ سید ابوالحسن قدسی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بھی کوشش کی اور دربار میں حاضر ہو گئے ہم نے سردار امان اللہ خان کے ماموں ابراہیم جان کی معرفت یہ کوشش کی تھی۔