شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 168 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 168

168 ہیں کبھی یہ کہ آج تو فلاں معاملہ پیش ہے وغیرہ ذالک جیل خانہ میں ہمیں کھانے کا انتظام بھی خود کرنا پڑا۔(۲۹) آٹھ نو ماہ تک جیل خانہ کی سخت تکالیف میں مبتلا ر ہے اور تمام صاحبزادے بیمار ہو گئے جیل فیور یا تپ زندان میں مبتلا ہو گئے (۳۰) اخبار الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۲۶ء میں سید احمد ابوالحسن قدسی صاحب کا یہ بیان شائع ہوا ہے کہ ایک پنجابی احمدی دوست جن کا نام فضل کریم تھا اور جو گجرات کے رہنے والے تھے کابل گئے اور احمدی ہونے کی وجہ سے پکڑے گئے ان سے جب پوچھا گیا کہ یہاں کوئی اور بھی احمدی ہے تو انہوں نے ہمارا نام لیا۔اس پر پانچوں بھائی اور ایک اور رشتہ دار جو بطور مہمان ہمارے پاس آئے ہوئے تھے گرفتار کر لئے گئے۔”ہمارے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر ہمیں جیل خانہ میں ڈال دیا گیا اور یہاں تک ہم پر تشدد اور سختی کی گئی کہ انہی ایام میں جب ہماری والدہ صاحبہ فوت ہوئیں تو ہمیں ان کا آخری دفعہ چہرہ دیکھنے کی اجازت نہ دی گئی۔آخر ہمارے یہ کہنے پر کہ ان کی تجہیز و تکفین کرنے والا سوائے ہمارے کوئی نہیں تو صرف ہمارے بڑے بھائی کو اجازت دی گئی کہ وہ جا کر دفن کر آئیں۔باقی کسی اور کو چہرہ دیکھنے کی بھی اجازت نہ ملی۔اس قید میں ہم لوگ آٹھ ماہ کے قریب رہے ہم سب خرچ اپنا کرتے تھے۔کیونکہ حکومت ہمیں قید میں ڈال کر اور بیڑیاں پہنا کر کھانے پینے کے لئے کچھ دینے پر تیار نہ تھی۔“ (۳۱) سردار امان اللہ خان کے ذریعہ صاحبزادگان کی رہائی آخر اللہ تعالیٰ نے یہ اسباب پیدا کر دیئے کہ امیر حبیب اللہ خان ، سردار امان اللہ خان سے ان کی والدہ علیاء حضرت کی وجہ سے ناراض ہو گیا۔اس سے قبل جب بھی وہ کابل سے موسم سرما گذار نے باہر جاتا تھا تو سردار امان اللہ خان اس کے ساتھ جا تا تھا۔جوامیر حبیب اللہ خان کا تیسرا بیٹا تھا اور سردار عنایت اللہ خان جو حضرت علیا کے بطن سے اس کا بڑا بیٹا تھا کا بل میں اپنا قائمقام بنا کر چھوڑ جاتا تھا۔