شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 166 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 166

166 کا بل قیام کے دوران صاحبزادگان کی گرفتاری اور شیر پور جیل میں ایک اذیت ناک قید کا بل میں قیام پر تقریباً ۷، ۸ سال گزرے تھے کہ بعض وجوہات سے سردار نصر اللہ خان اور امیر حبیب اللہ خان ان کے بارہ میں بعض شکوک وشبہات میں مبتلا ہو گئے جس کے نتیجہ میں صاحبزادگان کو ایک اذیت ناک قید میں ڈال دیا گیا۔واقعہ یہ ہے کہ ضلع گجرات ( شادیوال ) کا ایک احمدی فضل کریم نامی مجذوب الاحوال تھا۔قادیان سے پشاور آیا اور کچھ عرصہ انجمن احمد یہ پشاور میں مقیم رہا۔انہی ایام میں حضرت صاحبزادہ سید محمد عبداللطیف شہید کا تیسرا بیٹا صاحبزادہ سید محمد عمر جان جو ایک خوبصورت نوجوان تھا اور جس کی عمر قریباً بیس سال ہوگی وہ بھی پشاور آیا اور جماعت پشاور کے پاس بطور مہمان مقیم رہا کچھ دن کے واسطے سرائے نو رنگ ضلع بنوں بھی گیا جہاں اس خاندان کی زرعی جائداد تھی وہاں سے حاصلات زراعت وصول کر کے پشاور واپس آ گیا۔اس دوران میں کابل سے ایک احمدی دوست حضرت شہید مرحوم کی زوجہ محترمہ کا پیغام لائے کہ عزیز محمد عمر جان کو کابل واپس بھجوا دیا جائے ورنہ اُن کے خاندان کو بڑے مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا اگر چہ عزیزم محمد عمر جان کا ابھی کا بل واپس جانے کا پروگرام نہیں تھا لیکن والدہ محترمہ کے تعمیل ارشاد میں کا بل واپس چلا گیا۔فضل کریم احمدی مجذوب جو اس وقت پشاور میں ہی موجود تھا اس نے صاحبزادہ عمر جان کو دیکھ لیا تھا۔لیکن وہ پورے طور پر ان کے حالات سے واقف نہ تھا وہ ان کو حضرت صاحبزادہ سید محمد عبداللطیف شہید کا بڑا بیٹا سمجھتا رہا۔فضل کریم مجذوب صاحب کی ذہنی حالت بھی بہت اچھی نہ تھی جس کی وجہ سے غلطی لگنے کا بھی امکان تھا۔صاحبزادہ محمد عمر جان کے پشاور سے چلے جانے کے کچھ عرصہ بعد فضل کریم مجذور بھی ایک روز بلا حصول اجازت انجمن احمد یہ پشاور سے غائب ہو گئے۔بعد میں یہ معلوم ہوا کہ وہ پشاور سے کو ہاٹ اور گرم کی راہ سے درّہ پیواڑ کو تل میں سے گزر کر جاجی علاقہ میں جواب