شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 162
162 وہاں دفن کر دیا تھا جب کابل کی حکومت کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے خوست کے حاکم محمد اکبر خاں شاہ غاصی کو حکم دیا کہ رات کو کچھ سپاہی لے کر حضرت شہید مرحوم کی لاش نکال کر کہیں اور لے جائے اور ملا میرو کو سزا دے چنانچہ ان کو شدید اذیتیں پہنچائی گئیں مارا پیٹا اور گھسیٹ کر قید خانہ میں لے جایا گیا ان کا منہ کالا کر کے گاؤں میں پھرایا گیا بالآ خر جب ملا میر و قید سے رہا ہوئے تو اس وقت شہید مرحوم کا خاندان ترکستان کی جانب جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ان کی خوست والی جائداد حکومت نے ضبط کر لی تھی۔جو جائداد بنوں کے علاقہ میں تھی اس کی آمد سے گزارہ ہوتا تھا۔اس وقت ملا میرو کا وجود تھا جن کو خاندان سے ہمدردی اور ان کی خدمت کا احساس تھا قریباً پندرہ سال تک وہ ہی ہمارے خرچ کا انتظام کرتے رہے۔بنوں جا کر زمین کی آمد لے کر جلا وطنی میں پہنچا دیتے تھے۔راستہ کی دوری برفوں اور پہاڑوں کی مشکلات ان کے راستہ میں حائل نہ ہوئیں وہ یہ دور دراز کا سفر پیدل طے کرتے رہے۔پھر جب ہم کا بل میں جلا وطن تھے اور جیل خانہ میں قید تھے وہاں بھی آپ کا وجود ہمارے لئے مفید ثابت ہوا اور ہم خدا کے فضل سے عزت و آبرو کے ساتھ رہتے رہے۔خلاصہ یہ کہ جب تک ہمیں ضرورت تھی اس وقت تک انہوں نے ہمیں نہ چھوڑا اور جب ہم کو شاہ امان اللہ خان نے ستید گاہ آنے کی اجازت دے دی اور ہماری جائداد بھی ہم کومل گئی تو وہ عمر کے آخری حصہ میں ہجرت کر کے قادیان آگئے۔(۲۳) برٹش انڈیا اور افغانستان کے مابین ۱۹۰۹ء میں با ہمی سرحد کے بارہ میں جھگڑا اور رہائی کی سبیل امیر حبیب اللہ خان کے دورہ مزار شریف کے دو سال بعد یعنی تقریباً ۱۹۰۹ء میں برٹش انڈیا کی حکومت اور افغانستان کے مابین دونوں ملکوں کی سرحد کے بارہ میں کچھ جھگڑا پیدا ہو گیا۔اس اختلاف کو طے کرنے کے لئے حکومت افغانستان کی طرف سے دو افسر مقرر ہوئے جن میں سے ایک امین الانتظام تھا جس کا نام محمود تھا اور دوسرا امین الکاتب تھا جس کا