شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 161 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 161

161 ہی کوئی امیر ہوتا احمدیوں یا احمدیت سے دور بھاگتا تھا۔‘ (۱۹) خاندان کے ایک فرد جو گرفتاری کے وقت علاقہ انگریزی میں تھے اور بنوں کے ضلع میں خاندان کی جو جائداد ہے اس کا انتظام کرتے تھے وہ اس جائداد کی آمدنی وہاں پہنچاتے رہے جس سے گزارہ ہوتا تھا۔‘ (۲۰) امیر حبیب اللہ خان کی مزار شریف میں آمد اور رہائی کی کوشش صاحبزادہ سید ابوالحسن قدسی بیان کرتے ہیں کہ ہم قریباً چار سال جلا وطنی میں جانب ترکستان مقیم رہے۔پانچویں سال یعنی 19ء میں امیر حبیب اللہ خان افغانستان کے دورہ پر نکلا - کابل سے قندھار آیا۔قندھار سے ہرات آیا اور ہرات سے فراح اور وہاں سے میمنہ اور پھر مزار شریف آیا۔,, وہ مقام جہاں ہم مقیم تھے مزار شریف سے پندرہ میل کے فاصلہ پر جانب بلخ تھا جو قبلہ کی جہت بھی ہے۔امیر کے مصاحبین میں سے ایک شخص سلطان جان تھا جو ہماری برادری کے آدمی مزمل شاہ کا واقف تھا۔مزمل شاہ نے سلطان جان کی معرفت ایک درخواست امیر حبیب اللہ خان کے پیش کی جس میں یہ لکھا تھا کہ اب ہمیں چھوڑ دیا جائے یعنی ہماری جلا وطنی ختم کر دی جائے اور ہمیں وطن واپس جانے کی اجازت دے دی جائے۔امیر نے درخواست پڑھی اور جب اس میں حضرت شہید مرحوم کا نام دیکھا تو درخواست پھاڑ دی اور پھٹی ہوئی درخواست لفافہ میں بند کر کے واپس کر دی۔پھٹی ہوئی درخواست ملنے پر ہمیں بڑا رنج ہوا اور ہم لوگوں کو یقین ہو گیا کہ اب ہمیں خوست نہ بھیجا جائے گا کیونکہ خود بادشاہ نے ہمارا عریضہ پھاڑ دیا ہے۔(۲۱) ان حالات میں سات سال کے قریب یہ خاندان ترکستان میں رہا‘ (۲۲) سید ابوالحسن صاحب قدسی بیان کرتے ہیں کہ ملا میر و صاحب حضرت صاحبزادہ صاحب کی لاش کو کابل سے نکال کر ان کا تابوت ان کے گاؤں سید گاہ میں لے آئے تھے اور