شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 160
160 با آرام تھے۔کچھ مدت کے بعد حکومت افغانستان نے ہمارے لئے بالکل قلیل رقم منظور کی اور وہ بھی بطور قرضہ - (۱۸) جلا وطنی میں روپیہ کا ختم ہو جاتا اور اخراجات کی سبیل " کچھ عرصہ کے بعد جو تم ہمارے پاس تھی سب کی سب ختم ہو گئی گورنمنٹ کی طرف سے کوئی انتظام خرچ کا نہ ہوا۔اس لئے ہم نے مشورہ کر کے اپنا ایک نوکر پرائیویٹ طور پر علاقہ بنوں میں بھجوایا جو انگریزی حکومت میں تھا اور جہاں ہماری جائداد تھی باقی خاندان نے بھی ہمارے نوکر کو خط دے دیئے تا کہ تمام خاندان اپنے لئے خرچ اپنے اپنے رشتہ داروں سے منگوالیں۔اس وقت تک ان لوگوں کو جو بتوں میں تھے ہمارے حالات کا کچھ پتہ نہ تھا نہ ان کو علم تھا کہ ہم کس مصیبت میں گرفتار ہیں۔جب ہمارا آدمی وہاں پہنچا تب انہیں حالات اور ہماری مصیبت اور خرچ کی ضرورت کا پتہ چلا۔ان کو بہت رنج ہوا انہوں نے فوراً روپیہ کا بند و بست کیا۔تمام غلہ وغیرہ فروخت کر کے تقریباً تین ہزار روپیہ مہیا کیا اسی طرح باقیوں نے بھی روپیہ جمع کیا۔اور یہ تمام روپیہ بنوں میں جمع کر دیا گیا۔یہاں کے ہندوؤں کا کابل کے ساتھ کافی کا روباری تعلق تھا وہاں کے لئے چیک لے لیا کہ اتنی رقم دے دی جائے اور کچھ نقدی نوٹوں کی صورت میں ساتھ لے لی اس طرح ہمارے گزارہ کا بندو بست ہو گیا ورنہ جب تک یہ رقم نہ ملی ہم مکان بھی رہائش کے لئے نہ لے سکتے تھے۔کیونکہ جلا وطنی کی حالت میں جیسا کہ پہلے بھی ذکر آچکا ہے حکومت نے نہ صرف یہ کہ خود کوئی مدد نہ کی بلکہ حکومت کا یہ حکم بھی تھا کہ ان کو کسی قسم کی مدد نہ دی جائے۔اس لئے افغانستان کی حکومت میں بڑے بڑے لوگ جو ہمارے واقف تھے جو ہماری مدد اور خدمت نہایت شوق سے کرتے مگر حکومت کے حکم اور احمدیت قبول کرنے کی وجہ سے یہ بہت ڈرے ہوئے تھے اس لئے وہ جرات نہ کر سکے اور جتنا