شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 159
159 ہو میں وہ جگہ آپ کی رہائش کے لئے دے دوں گا اس طرح اس نے خاص امداد کی۔اس پر ہم لوگوں نے اِدھر اُدھر آدمی بھیجے تا کہ جگہ تلاش کریں۔ایک جگہ ہر دہ نہر کا علاقہ پسند آیا اس کے اندر نہر عبداللہ کی جگہ پسند کی گئی اس میں ایک مقام قلعہ قر بنجلہ کو پسند کیا قائمقام نائب السلطنت سرور نے اس کی منظوری دے دی۔اس اثناء میں اس علاقہ کے واسطے نا ئب الحکومت سردار عبداللہ خان طوخی مقرر ہو کر آیا۔یہ شخص حضرت صاحبزادہ صاحب کے حالات سے واقف تھا اور سخت مخالف تھا۔(۱۷) مزار شریف کے پاس قلعہ قرہ مجلہ در علاقہ نہر عبد اللہ و ہر وہ نہر میں قیام ” یہاں جہاں ہم نے قیام کیا وہ امیر کا بل کی حکومت کی آخری سرحد تھی۔وہاں کے باشندوں نے پہلے تو ہمیں رہائش کے لئے مکان دینے سے انکار کر دیا اور گاؤں کے لوگ اس جگہ کے حاکم کے پاس گئے اور کہا کہ ہم ان لوگوں کو ر ہائش کے لئے جگہ نہیں دے سکتے۔انکار کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم سے پہلے جو لوگ جلا وطن ہو کر کسی جرم کی سزا میں آتے تھے ان میں سے اکثر اصل باشندوں کے لئے کئی طرح کی تکالیف کا باعث بن جاتے تھے اور ان کوٹنگ کرتے تھے ہمارے متعلق بھی شروع میں ان کا اچھا خیال نہ تھا اس پر حاکم نے یہ فیصلہ کیا کہ جس طرح ہو سکے ہم لوگ خرگا ہوں یعنی خیموں کا انتظام کریں اور ان کے اندر گزارہ کریں۔مُخالف حاکم نے اس بارہ میں کوئی مدد نہ کی اس پر ہم نے خیموں کا انتظام خود کیا اور ان میں رہنے لگے۔ہماری حالت اس وقت ایک ایسے مسافر کی تھی جس کو گھر سے دور نکال دیا گیا ہو کوئی خوراک وغیرہ نہ دی جائے۔نہ آبادی میں رکھا جائے۔قریباً دو ماہ اسی طرح گزرے۔کچھ مدت کے بعد جب وہاں کے لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ ہم اچھے اور شریف لوگ ہیں تو گاؤں کے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ لوگ ہم سے مکان لے لیں۔اس پر ہم نے ان سے چند مکان گروی لے لئے۔جو مکان ہم نے لئے ان کے اندر باغ تھا۔اور ہر طرح