شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 157
157 ترکستان جانے کا حکم ہوا۔‘‘ (۱۳) سید احمد نور بیان کرتے ہیں ” جس وقت حضرت صاحبزادہ صاحب کے اقارب گرفتار ہوئے اس وقت آپ کا خاندان خوست میں تھا سنگساری کے حکم کے بعد تمام خاندان کے متعلق حکم ہوا کہ جلا وطن کر کے ( جانب ) بلخ بھیج دیا جائے اور تمام جائدا وضبط کر لی جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔بلخ کے راستہ میں بہت تکلیف پہنچی خوست سے کا بل پچاس میل کا ( فاصلہ ہے ) اور کابل سے بلخ (جو ترکستان کی سرحد پر واقعہ ہے ) تقریباً تین سومیل کے فاصلہ پر ہوگا سخت سردی تھی چھوٹے چھوٹے بچے ساتھ تھے۔‘(۱۴) کا بل سے جانب ترکستان کا سفر حضرت صاحبزادہ صاحب کے تمام خاندان یعنی چاروں گھرانوں کو جن کا پہلے ذکر آچکا ہے حکومت افغانستان کی طرف سے جانب ترکستان سفر کر نے کا حکم ہوا۔صاحبزادہ سید ابوالحسن قدسی بیان کرتے ہیں کہ سردی کا موسم تھا سخت سردی تھی ترکستان کا بل سے قریباً تین سو میل کے فاصلہ پر (جانب شمال ) واقعہ تھا۔راستہ نہایت دشوار گزار اور بلند و خطر ناک پہاڑوں میں سے جاتا تھا۔کوئی ریل یا موٹر نہ جاتی تھی۔مسلح فوجی سپاہی ساتھ روانہ کئے گئے۔حکومت کی طرف سے خوراک وغیرہ کا کوئی انتظام نہ کیا گیا تمام خرچ خاندان نے اپنی طرف سے کیا۔(۱۵) ( فوجیوں کا نگران ) جمعدار سلطان علی کو مقرر کیا گیا تھا یہ شخص شیعہ تھا۔صاحبزادہ صاحب سید تھے اور انہوں نے ایک زمانہ میں شیعوں کے متعلق یہ فتویٰ جاری کیا تھا کہ یہ کا فرنہیں ہیں۔ان کا ذبیحہ جائز ہے۔جب کہ صاحبزادہ صاحب کے علاوہ افغانستان کے دیگر علماء کا فتویٰ یہ تھا کہ شیعہ کا فر ہیں۔اور ان کا ذبیحہ حرام ہے۔اس سفر میں جمعدار سلطان علی کی وجہ سے کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی اور اس نے ہماری خاصی مدد کی ( جب قیام ہوتا ) تو رات کو خود گاؤں سے ( ضرورت کے مطابق ) سامان کا