شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 154 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 154

154 قریب اور صاحبزادہ محمد طیب کی عمر ڈیڑھ سال کے قریب تھی۔(1) صاحبزادہ سید ابوالحسن قدسی بیان کرتے ہیں کہ گرفتاری اور کا بل لے کر جانے کا حکم حضرت صاحبزادہ صاحب کے تمام رشتہ داروں کے نام تھا کہ برادر و برادر زادہ حاضر کئے جائیں اُس وقت خوست کا حاکم ہمارے خلاف تھا اس لئے اُس نے ہم سب کو قید کر لیا۔(۷) صاحبزادہ سیدا بو الحسن قدسی کا بیان ہے کہ اُس وقت سید گاہ میں اُن کے خاندان کے چار بڑے گھرانے تھے جن میں سے صرف ایک گھرانہ احمدی تھا مگر حکم چاروں کی گرفتاری کا ہوا۔اب یہ باقیوں کے واسطے مفت میں مصیبت تھی وہ کچھ مخالف بھی تھے۔یہ تمام خاندان تقریباً ساٹھ نفر پر مشتمل تھا۔تمام سامان جو لے سکتے تھے لے کر چل پڑے۔پہلے پانچ میل کے فاصلہ پر چھاؤنی میں ٹھہرے اور کچھ دن قیام کیا اور پھر کا بل روانہ ہو گئے۔تمام خرچ وغیرہ کا انتظام ذاتی تھا۔پہرہ کے ساتھ کا بل روانہ کیا گیا کیونکہ اس خاندان میں پردہ بہت سخت تھا اس لئے عورتوں کی سواری کے واسطے اونٹوں کا انتظام کیا گیا ان کو ہو د جوں میں لے جایا گیا۔مردوں کے واسطے گھوڑوں کا انتظام کیا گیا۔یہ تمام اخراجات صاحبزادگان کے ذمہ تھے حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہ ملی۔(۸) کابل روانہ ہوئے تو صاحبزادگان کے گھوڑے اپنے تھے لیکن ( فوج کے ) افسروں نے اپنے رڈی گھوڑے اُن کو دے کر اُن کے اچھے گھوڑے خود لے لئے۔ابھی تک خاندان کو معلوم نہ تھا کہ صاحبزادہ صاحب شہید ہو گئے ہیں۔راستہ میں جب کہ کابل شہر قریب تھا معلوم ہوا۔سید احمد نور صاحب نے اطلاع دی کہ حضرت والد صاحب شہید ہو گئے ہیں اور میں فلاں جگہ ان کی لاش دفن کر آیا ہوں۔(۹) سید احمد نور بیان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی لاش پتھروں سے نکالی تو ان کی تدفین کے بعد کچھ عرصہ کا بل میں سردار عبدالرحمن جان ابن سردار شیرین دل خان کے پاس مقیم رہے پھر انہوں نے کابل سے روانگی کا پروگرام بنایا اور ایک نیچر