شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 138 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 138

138 اپنے صدق کا نور ایسا دکھلایا کہ اس کے صدق سے لوگ حیران ہو گئے۔خدا ہم سے اس جوان کو بدلہ دے۔وہ اپنی جان خدا کی راہ میں دے چکا۔پس سوچ اور فکر کر۔یہ وہ بندے ہیں کہ مان سون ہوا کی طرح ان کا وجود ہوتا ہے۔جب آتے ہیں پس ساتھ ہی بارش رحمت کی آتی ہے۔کیا تو ان کے سوا کوئی اور لوگ ابدال جانتا ہے۔کیونکہ وہ لوگ وہ لوگ ہیں جن پر پتھر چلائے گئے۔پس انہوں نے استقامت اختیار کی اور ان کی جمعیت باطنی بحال رہی۔۔“ اسی طرح فرمایا: جس سلسلہ میں عبداللطیف شہید جیسے صادق اور ملہم خدا نے پیدا کئے جنہوں نے جان بھی اس راہ میں قربان کر دی اور خدا سے الہام پا کر میری تصدیق کی ایسے سلسلہ پر اعتراض کرنا کیا یہ تقویٰ میں داخل ہے۔ایک پارسا طبع صالح اہل علم کا ایک جھوٹے انسان کے لئے اس قدر عاشقانہ جوش کب ہو سکتا ہے؟ کس بہر کیسے سر ندید جاں نفشاند عشق است که این کار به صد صدق کناند عشق است که در آتش سوزاں بنشاند عشق است که برخاک مذلت غلطاند بیعشق دلے پاک شود من نه پذیرم عشق است کزیں دام به یک دم بر ہاند " صاحبزادہ مولوی عبداللطیف شہید نے اپنے خون کے ساتھ سچائی کی گواہی دی۔عبداللطیف شہید مرحوم وہ صادق اور متقی خدا کا بندہ تھا جس نے خدا کی راہ میں نہ اپنی بیوی کی پروا کی نہ بچوں کی نہ اپنی جانِ عزیز کی۔یہ لوگ ہیں جو حقانی علماء ہیں جن کے اقوال و اعمال پیروی کے لائق ہیں جنہوں نے اخیر تک خدا کی راہ میں اپنا صدق نباہ دیا۔‘(۱۵۰) صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب شہید کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فارسی نظم کے چند اشعار آں جواں مرد و حبیب کردگار جوہر خود کرد آخر آشکار نقد جان از بہر جاناں باخته دل ازیں فانی سرا پرداخته