شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 117
117 کے طریق پر فوراً اپنا سامان یعنی فرنیچر اور قالین وغیرہ کابل سے باہر پغمان بھجوانا شروع کر دیا۔اس کا ارادہ تھا کہ خود بھی اگلے روز کابل سے نکل جائے گا۔جب کا بل شہر کے گورنر کو اس کے ارادہ کا علم ہوا تو وہ امیر کے پاس آیا کہ عام پھیلی ہوئی بے اطمینانی اتنی زیادہ ہے کہ اگر وہ اس موقعہ پر شہر سے باہر چلا گیا تو فوج اور رعایا بغاوت کر دے گی اور وہ پھر کبھی واپس نہ آ سکے گا۔امیر نے گورنر کا مشورہ مان لیا اورا سے بہ امر مجبوری اپنے محل ارک میں ہی رہنا پڑا۔اس نے اپنے آپ کو دو کمروں تک محدود کر لیا۔جہاں صرف نصف درجن منظور نظر درباریوں اور نوکروں کو آنے کی اجازت تھی جو لوگ اسے ملنے آتے انہیں یہ اجازت نہ تھی کہ محل سے باہر نکلیں۔اسے ڈر تھا کہ وہ باہر سے ہیضہ کا مرض لے آئیں گے۔چونکہ امیر کابل سے باہر نہیں جا سکا تھا اسلئے سردار نصر اللہ خان کو بھی شہر میں اپنے محل میں رہنا پڑا۔وہ اپنا اکثر وقت جائے نماز پر گزارتا تھا۔(۱۲۶) مسٹرانکس ہملٹن اپنی کتاب ”افغانستان میں بیان کرتے ہیں کہ : ۱۹۰۳ء میں افغانستان کے شہر کابل اور شمال و مشرق کے صوبہ جات میں زور شور سے ہیضہ پھوٹ پڑا جو اپنی شدت کے لحاظ سے ۱۸۷۹ء کے وباء ہیضہ سے بدتر تھا۔سردار نصر اللہ خان کی ایک بیوی اور بیٹا اور شاہی خاندان کے کئی افراد اور ہزا رہا باشندگان کا بل اس وباء سے لقمہ اجل ہوئے اور شہر میں افرا تفری پڑگئی۔ہر شخص کو اپنی جان کا فکر لاحق ہو گیا اور دوسرے کے حالات سے بے فکر اور بے خبر ہو گیا۔‘ (۱۲۷) وو حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انذاری و تبشیری پیشگوئیاں ” صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف مرحوم کا اس بے رحمی سے مارا جانا اگر چہ ایسا امر ہے کہ اس کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے وما رأينا ظلما اغيظ من هذا لیکن اس خون میں بہت