شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 112
112 ’تب قاضیوں اور فقیہوں نے شور مچایا کہ کافر ہے، کا فر ہے، اس کو جلد سنگسار کر و۔اس وقت امیر اور اس کا بھائی نصر اللہ خان اور قاضی اور عبدالاحد کمیدان یہ لوگ سوار تھے اور باقی تمام لوگ پیادہ تھے۔” جب ایسی نازک حالت میں شہید مرحوم نے بارہا کہہ دیا کہ میں ایمان کو جان پر مقدم رکھتا ہوں تب امیر نے اپنے قاضی کو حکم دیا کہ پہلا پتھر تم چلاؤ کہ تم نے کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔قاضی نے کہا کہ آپ بادشاہ وقت ہیں آپ چلاویں۔تب امیر نے جواب دیا کہ شریعت کے تم ہی بادشاہ ہو اور تمہارا ہی فتویٰ ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں۔تب قاضی نے گھوڑے سے اتر کر ایک پتھر چلایا جس پتھر سے شہید مرحوم کو زخم کاری لگا اور گردن جھک گئی۔پھر بعد اس کے بدقسمت امیر نے اپنے ہاتھ سے پتھر چلایا۔پھر کیا تھا اس کی پیروی سے ہزاروں پتھر اُس شہید پر پڑنے لگے اور کوئی حاضرین میں سے ایسا نہ تھا جس نے اس شہید مرحوم کی طرف پتھر نہ پھینکا ہو۔یہاں تک کہ کثرت پتھروں سے شہید مرحوم کے سر پر ایک کو ٹھہ پتھروں کا جمع ہو گیا۔پھرا میر نے واپس ہونے کے وقت کہا کہ یہ شخص کہتا تھا کہ میں چھ روز تک زندہ ہو جاؤں گا اس پر چھ روز تک پہرہ رہنا چاہئے۔بیان کیا گیا ہے کہ یہ ظلم یعنی سنگسار کرنا ۱۴ جولائی کو وقوع میں آیا۔اس بیان میں اکثر حصہ ان لوگوں کا ہے جو اس سلسلہ کے مخالف تھے جنہوں نے یہ بھی اقرار کیا کہ ہم نے بھی پتھر مارے تھے اور بعض ایسے آدمی بھی اس بیان میں داخل ہیں کہ شہید مرحوم کے پوشیدہ شاگرد تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اس سے زیادہ دردناک ہے جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کیونکہ امیر کے ظلم کو پورے طور پر ظاہر کرنا کسی نے روا نہیں رکھا اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے بہت سے خطوط کے مشترک مطلب سے ہم نے خلاصہ لکھا ہے۔ہر ایک قصہ میں اکثر مبالغہ ہوتا ہے لیکن یہ قصہ ہے کہ لوگوں نے امیر سے ڈر کر اس کا ظلم پورا پورا بیان نہیں کیا اور بہت سی پردہ پوشی کرنی چاہی“۔(۱۱۵)