شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 109 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 109

109 سپاہی بر ہنہ شمشیروں کے ساتھ اس کے سر پر کھڑے کئے جاتے اور اس طرح ایک عذاب اور رعب میں ڈال کر اسکو ثبوت دینے سے روکا جاتا۔پھر اگر اس نے ایسا نہ کیا تو عادلانہ حکم دینے کے لئے یہ تو اس کا فرض تھا کہ کا غذات مباحثہ کے اپنے حضور میں طلب کرتا۔بلکہ پہلے سے یہ تاکید کر دیتا کہ کاغذات مباحثہ کے میرے پاس بھیج دینے چاہئیں۔اور نہ صرف اس بات پر کفایت کرتا کہ آپ ان کا عذات کو دیکھتا بلکہ چاہئے تھا کہ سرکاری طور پر ان کا غذات کو چھپوا دیتا کہ دیکھو کیسے یہ شخص ہمارے مولویوں کے مقابل پر مغلوب ہو گیا اور کچھ ثبوت قادیانی کے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں اور نیز جہاد کی ممانعت میں اور حضرت مسیح کے فوت ہونے کے بارہ میں نہ دے سکا۔‘ (۱۱۲) جناب قاضی محمد یوسف صاحب بیان کرتے ہیں کہ : حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب کو مباحثہ کے اختتام کے بعد جامع مسجد بازار کتب فروشی سے ایک جلوس کی صورت میں روانہ کیا گیا۔پا پیادہ چوک پل خشتی میں سے ہو کر بازار ارک شاہی میں سے گزر کر دروازہ نقار خانہ تک پہنچے اور شاہی قلعہ میں داخل ہوئے۔جب انہیں امیر حبیب اللہ خان کے دربار میں لایا گیا تو مولویوں اور عوام کا جم غفیر موجود تھا۔سردار نصر اللہ خان نے دریافت کیا کہ کیا فیصلہ ہوا۔اس پر لوگوں نے شور مچایا کہ صاحبزادہ ملامت شد امیر حبیب اللہ خان نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے کہا کہ مولویوں کا فتویٰ تو کا فر قرار دئے جانے کا ہے اور سنگسار کرنے کی سزا تجویز کی گئی ہے اگر آپ کوئی صورت تو بہ کی پیدا کر لیں تو نجات مل سکتی ہے۔اس موقعہ پر سردار نصر اللہ خان نے اپنے قلبی بغض و عناد کا مظاہرہ کیا اور خود علماء کا فتویٰ تکفیر در حجم پڑھ کر سنایا اور حاضرین سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ آپ اطمینان رکھیں امیر صاحب آپ کی مرضی اور علماء کے فتویٰ کی ہی تصدیق و تائید کریں گے مگر وہ چاہتے ہیں کہ بطور اتمام حجت صاحبزادہ عبداللطیف کو کسی قدر مہلت دے کر تو بہ کا موقعہ دیں۔