شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 100
100 ہونے کی حالت میں بارہا یہی جواب دیا۔اور یہ قید انگریزی قید کی طرح نہیں تھی جس میں انسانی کمزوری کا کچھ کچھ لحاظ رکھا جاتا ہے بلکہ ایک سخت قید تھی جس کو انسان موت سے بدتر سمجھتا ہے۔اس لئے لوگوں نے شہید موصوف کی اس استقامت اور استقلال کو نہایت تعجب سے دیکھا۔اور در حقیقت تعجب کا مقام تھا کہ ایسا جلیل الشان شخص کہ جو کئی لاکھ روپیہ کی ریاست کا بل میں جا گیر رکھتا تھا اور اپنے فضائل علمی اور تقویٰ کی وجہ سے گویا تمام سرزمین کا بل کا پیشوا تھا اور قریباً پچاس برس کی عمر تک تنختم اور آرام میں زندگی بسر کی تھی اور بہت سا اہل وعیال اور عزیز فرزند رکھتا تھا۔پھر یکدفعہ وہ ایسی سنگین قید میں ڈالا گیا جوموت سے بدتر تھی اور جس کے تصور سے بھی انسان کے بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ایسا نازک اندام اور نعمتوں کا پروردہ انسان وہ اس روح کے گداز کرنے والی قید میں صبر کر سکے اور جان کو ایمان پر فدا کرے۔بالخصوص جس حالت میں امیر کابل کی طرف سے بار بار ان کو پیغام پہنچتا تھا کہ اس قادیانی شخص کی تصدیق دعویٰ سے انکار کر دو تو تم ابھی عزت سے رہا کئے جاؤ گے۔مگر اس قوی الایمان بزرگ نے اس بار بار کے وعدہ کی کچھ بھی پرواہ نہ کی اور بار بار یہی جواب دیا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں ایمان پر دنیا کو مقدم رکھ لوں اور کیونکر ہوسکتا ہے کہ جس کو میں نے خوب شناخت کر لیا اور ہر ایک طرح سے تسلی کر لی اپنی موت کے خوف سے اس کا انکار کر دوں۔یہ انکار تو مجھ سے نہیں ہوگا۔میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے حق پالیا اس لئے چند روزہ زندگی کے لئے مجھ سے یہ بے ایمانی نہیں ہوگی کہ میں اس ثابت شدہ حق کو چھوڑ دوں۔میں جان چھوڑ نے کے لئے تیار ہوں اور فیصلہ کر چکا ہوں۔مگر حق میرے ساتھ جائے گا۔اس بزرگ کے بار بار کے یہ جواب ایسے تھے کہ سرزمین کا بل کبھی ان کو فراموش نہیں کرے گی اور کابل کے لوگوں نے اپنی تمام عمر میں یہ نمونہ ایمانداری اور استقامت کا کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔اس جگہ یہ بھی ذکر کرنے کے لائق ہے کہ کابل کے امیروں کا یہ طریق نہیں ہے کہ اس قد ر بار بار وعدہ معافی دے کر ایک عقیدہ کے چھڑانے کے لئے توجہ دلائیں۔لیکن مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی یہ خاص رعایت اس وجہ سے تھی کہ وہ ریاست کا بل کا گویا ایک