شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 81
81 ملا ( صاحب ) اس مقدس شخصیت کو ملنے گئے۔مقامی لوگوں نے ان کے بارہ میں عجیب و غریب امور بیان کئے۔نبوت کے اس مدعی کے کلمات اتنا یقین دلانے والے تھے کہ ملا ( صاحب ) ان پر ایمان لے آئے اور ان کو یقین ہو گیا کہ جو کچھ وہ اپنے بارہ میں دعویٰ کرتے ہیں وہ درست ہے۔یہ امر معلوم ہونے پر کہ ملا ( صاحب ) حج کے ارادہ سے جا رہے تھے ( حضرت ) نبی ایک مرتبہ ان کو ایک اندرونی کمرہ میں لے گئے اور وہاں اُن دونوں نے اکٹھے مکہ کی زیارت کی۔حاجیوں کے ہجوم کو مسجد حرام میں دیکھا۔اس کے صحن میں داخل ہوئے اور اس میں تمام قابل ملاحظہ مقامات دیکھے اور خانہ کعبہ پہنچنے تک تمام مسنون دعائیں Mr۔Frank A۔Martin لکھتے ہیں کہ یہ مسمریزم کے نتیجہ میں تھا یا ملا (صاحب) کے اس نظارہ کو دیکھنے کی کوئی اور وجہ تھی اس بارہ میں تو ہر شخص اپنا قیاس کر سکتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ سزائے موت بھی ان کے اس یقین کو متزلزل نہیں کر سکا کہ ان کے ہادی ایک سچے نبی تھے اور یہ کہ واقعی انہوں نے مکہ مکرمہ کی زیارت کی تھی۔کشفی واقعہ کے بارہ میں وضاحت 66 سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس کشف کا مسٹر مارٹن نے ذکر کیا ہے اس کا ہو بہوذ کر تو سلسلہ کے لٹریچر میں نہیں مل سکا لیکن حضرت پیر سراج الحق نعمانی کی روایت میں ایک ملتے جلتے واقعہ کا ذکر آتا ہے۔حضرت پیر صاحب نے اپنی کتاب تذکرۃ المہدی حصہ دوم میں لکھا ہے کہ ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: ہمیں بھی ایک بار حج کے روز کشف میں حج کا نظارہ دکھایا گیا یہاں تک کہ سب کی باتیں اور لبیک اور تسبیح و تحلیل ہم سنتے تھے۔اگر چاہتے تو لوگوں کی باتیں لکھ لیتے۔“ اس مقام پر ایک احمدی صحابی کی ایک رؤیا کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔جناب غلام حیدر صاحب ولد میاں خدا بخش صاحب سکنہ احمد نگر ضلع گوجرانوالہ