شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 49 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 49

49 ایک مرتبہ سردار شیر میں دل خان نے بہت اصرار کیا کہ آپ اس کے ہاں چائے پیئیں۔ہندو تاجر اپنی خوشی سے ہمیں چائے کی پتی دیتے ہیں ، ہم زبر دستی ان سے نہیں لیتے اس لئے آپ کبھی کبھی اس کے ساتھ چائے پی لیا کرتے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب جب حکام سے ملتے تو ان کو نصیحت کیا کرتے تھے کہ تم کہتے تو یہ ہو کہ ہم شریعت کے مطابق عدل کے ساتھ حکومت کرتے ہیں۔اگر یہ صحیح ہے تو رعایا تم سے ناراض کیوں رہتی ہے اور کس لئے تنگ آئی ہوئی ہے۔شریعت تو اس قدر نرم ہے کہ اگر اس پر قائم رہ کر حکومت کی جائے تو حکومت انگریزی کے ماتحت رہنے والے ہندو بھی پکار اٹھیں کہ کاش ہم پر یہ مسلمان حکومت کرتے۔اس کے برعکس آپ کی اپنی رعایا تو یہ کہتی ہے کہ اگر انگریزی حکومت ہم پر ہوتی تو اچھا ہوتا۔ایک دفعہ سردار شیر میں دل خان نے ایک کوٹھی بنوائی اور حضرت صاحبزادہ صاحب سے عرض کیا کہ اگر اس میں کوئی نقص نظر آئے تو بتا ئیں۔آپ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا کہ میں کیا بتاؤں اگر کوئی نقص نکالوں گا تو آپ جبراً کسی کا ریگر کو بلا کر درست کروالیں گے۔اس وقت افغانستان میں کاریگروں سے بیگار لینے کا عام رواج تھا۔جب آپ نے یہ بات کی تو باہر ایک نجار کھڑا ہوا تھا اس نے آپ کی بات سن لی۔وہ حاضر ہوا اور عرض کی صاحبزادہ صاحب آپ نقص بتادیں میں اپنی خوشی سے درست کر دوں گا۔تب آپ نے عمارت کے بعض نقائص بتائے۔ایک دفعہ ایک غریب آدمی کا قاضی کے ساتھ تنازع ہوا۔حاکم نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو فیصلہ کے لئے مقرر کر دیا۔وہ آدمی تاریخ مقررہ پر حاضر ہوا اور صاحبزادہ صاحب سے لجاجت سے کلام کرنے لگا۔اسے خوف تھا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب قاضی سے رعایت برتیں گے اور اس کے حق میں فیصلہ کر دیں گے۔اس پر آپ جوش میں آگئے اور اسے کہا کہ اگر کسی غریب ہندو کا گورنر کے ساتھ تنازع ہو اور اس کا مقدمہ پیش ہو تب بھی میں کسی کی طرفداری یا رعایت نہیں کروں گا۔