شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 328 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 328

328 بیان کیا جاتا ہے کہ قید میں اس کے حواس مختل ہو گئے تھے کچھ عرصہ بعد اسے امیر امان اللہ خان کے حکم سے دم بند کر کے قتل کر دیا گیا جس طرح اس کے دادا میر عبدالرحمن خان نے افغانستان کے شہید اول مولوی عبد الرحمن خان کو قید خانہ میں دم بند کر کے شہید کر وا دیا تھا۔سردار نصر اللہ خان کا ایک بیٹا تھا جسے امیر امان اللہ خان نے خفیہ طور پر قتل کروا دیا۔جب حضرت سید محمد عبد اللطیف شہید کا تابوت کا بل سے ملا میر و صاحب سید گاہ لے آئے اور وہاں دفن کر دیا تو کچھ عرصہ کے بعد سردار نصر اللہ خان کو اس کا علم ہو گیا اور اس نے خوست کے حاکم اعلیٰ شاہ محمد اکبر خاصی کو حکم بھجوایا کہ آخون زادہ سید محمد عبد اللطیف کا تابوت رات کو نکال کر اسے غائب کر دیا جائے۔چنانچہ اس نے کچھ سپاہی بھجوا کر سردار نصر اللہ خان کے حکم کی تعلیم کر دی۔اور اب تک معلوم نہیں ہو سکا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کو کہاں دفن کیا گیا اور ان کی قبراب کہاں ہے۔یہی حال سردار نصر اللہ خان کا ہوا اس کی قبر کا بھی پتہ نہیں چلتا کہ کہاں ہے۔رجم قبرا میر حبیب اللہ خان جب امیر حبیب اللہ خان 1919 ء میں جلال آباد کے علاقہ میں قتل کیا گیا تو سردار نصر اللہ خان نے اس کو جلال آباد کے قریب ایک باغ میں دفن کروا دیا امیر امان اللہ خان کے زمانہ میں جب شنواری قبیلہ نے اس کے خلاف بغاوت کی تو انہوں نے جلال آباد پر بھی حملہ کیا اسے لوٹ لیا اور شہر کو تباہ و برباد کر دیا انہیں دنوں میں باغیوں نے امیر حبیب اللہ خان کی قبر کو سنگسار کیا۔جس طرح امیر حبیب اللہ خان نے اپنی زندگی میں حضرت صاحبزادہ محمد عبداللطیف شہید کو سنگسار کر وایا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کر دیا کہ امیر حبیب اللہ خان کی قبر بھی سنگسار کی گئی۔امیر حبیب اللہ خان کے خلاف فتاویٰ کفر امیر حبیب اللہ خان نے حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف کو سردار نعمت اللہ خان کی