شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 316 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 316

316 بات ٹھان لی کہ کوئی ایسا طریق اختیار کرے جس سے بادشاہ کا اصل ارادہ اور مقصد معلوم ہو جائے اس غرض سے اس نے ایک روز بادشاہ کو فون کر ڈالا اور جب بادشاہ نے دریافت کیا کہ کون بول رہا ہے تو اس نے جواب دیا کہ میں احمد علی خان سمت شمالی کا والی بول رہا ہوں۔پھر اس نے بادشاہ کو بتایا کہ اس نے بچہ سقاؤ پر قابو پا کر اسے گرفتار کر لیا ہے۔اس پر بادشاہ نے ایک بار پھر بد عہدی کا ارادہ کر لیا اور جوش سے بھری ہوئی آواز میں جواب دیا کہ اس کتے کو فور أموت کے گھاٹ اتار دو اور اس کا سرکاٹ کر کابل روانہ کرو“ اس طرح بچہ سقاؤ کو بادشاہ کے عزم غداری کا علم ہو گیا اس نے فون پر اپنی اصلیت بتا دی اور بادشاہ کو برا بھلا کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔یہ خبر آن کی آن میں کوہ دامن اور جبل السراج کے علاقہ میں پھیل گئی کہ بادشاہ ہم لوگوں سے غداری کرنا چاہتا ہے اور بغاوت جو پہلے نسبتاً محدود تھی تمام سمت شمالی میں پھیل گئی۔ڈاکوؤں نے جبل السراج پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔اور بچہ سقا ؤ نے کا بل پر حملہ کرنے کا پروگرام بنالیا۔حالات اس سرعت سے بدلے اور واقعات کے رخ نے ایسا پلٹا کھایا کہ امیر امان اللہ کو خبر ہونے تک چند دن کے اندر اندر ڈاکوؤں نے کابل کی طرف دھاوا بول دیا شہر آراء کے دروازے سے متصل کابل سے ایک دوفر لانگ سمت شمال میں مکتب حربیہ اور اس کے انگریزی سفارت خانے کے درمیان ایک پہاڑی پر ایک قلعہ ہے جہاں گولہ بارود رکھا جاتا ہے اس لئے اس کو میگزین کا نام دیا جاتا ہے۔بچہ سقاؤ کی فوج نے انگریزی سفارت خانہ کو گھیر لیا اور سرکاری پہرہ داروں سے بندوقیں چھین کر وہاں اپنے پہرہ دار مقرر کر دیئے۔پھر قلعہ میگزین کے پہرہ داروں کو قتل کر کے تمام گولہ بارود پر قبضہ کر لیا پھر دفعہ مکتب حربیہ پر حملہ کر کے اس پر قابض ہو گیا۔جب اس حملہ کی اطلاع کابل میں ہوئی تو شاہی فوج بھی مقابلہ پر آ گئی اور دونوں فوجوں میں باقاعدہ جنگ شروع ہوگئی۔اب بچہ سقاؤ کے قبضہ میں کچھ تو ہیں بھی آگئی تھیں اس لئے اس نے کا بل پر گولہ