شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 214
214 شما نفرے عارضاں را اطمینان بدهید که از طرف افغانستان و اهالی هیچ گاه بدون سبب و واسطه - اذیت برا قوام شال نخواهد رسید اس کا ترجمہ یہ ہے کہ آپ احمدیوں کو اطمینان دلا دیں کہ افغانستان اور اہالیان افغانستان کی طرف سے کسی وقت بلا سبب اور وجہ کوئی اذیت و تکلیف ان لوگوں کو نہیں پہنچے گی (۱۳) مولوی نعمت اللہ خان صاحب کا بطور مبلغ تقر ر اور کابل میں قیام جب جماعت احمدیہ کو حکومت افغانستان کی طرف سے بار بار تحریری اور زبانی طور پر یقین دہانی کروائی گئی کہ احمدیوں کو افغانستان میں مکمل مذہبی آزادی دی جائے گی اور ان کی حفاظت کی جائے گی تو سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے مولوی نعمت اللہ خان صاحب کو دوبارہ افغانستان بطور مبلغ بھجوانے کا فیصلہ فرمایا اور ۱۹۲۲ء میں ان کو جناب عبدالاحد خان صاحب افغان کی معیت میں براستہ پشاور افغانستان بھجوایا گیا اس سے قبل حضور اقدس نے ایک مبسوط کتاب دعوۃ الا میر کے نام سے تحریر فرمائی۔جو امیر امان اللہ خان کو مخاطب کر کے لکھی گئی تھی۔اور اس میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوئی اور مقام نیز اس کے اثبات کے دلائل قرآن مجید اور احادیث نبویہ اور کتب علماء اسلام سے بڑی وضاحت اور عمدہ پیرا یہ میں بیان فرمائے اور ان غلط فہمیوں کا ازالہ فرمایا جو جماعت احمدیہ اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں بعض مسلمان ملا پھیلاتے رہتے ہیں۔اس کتاب کا فارسی میں ترجمہ کروایا گیا۔جسے زیور طبع سے آراستہ کیا گیا۔دعوۃ الا میر کی بہت سی جلد میں مولوی نعمت اللہ خان صاحب اور عبدالاحد خان صاحب افغان اپنے ساتھ لے گئے تا کہ اسے مناسب طریق سے افغانستان میں تقسیم کیا جائے۔اور احمدیت کا پیغام پہنچانے میں مدد ملے۔جب مولوی نعمت اللہ خان صاحب اور جناب عبدالاحد خان صاحب افغان پشاور پہنچے تو جماعت احمد یہ پشاور کے مرکز واقعہ جہاں گیر پورہ میں کچھ عرصہ مقیم رہے۔اور احباب صوبہ سرحد سے ملتے رہے۔اس بارہ میں جناب