شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 173
173 نوٹ : - جیسا کہ آگے ذکر آئے گا امیر حبیب اللہ خان ۲۰ فروری ۱۹۱۹ء کو قتل ہوا تھا۔(۳۸) امیر حبیب اللہ خان کا قتل اور امیر امان اللہ خان کی تخت نشینی پہلے ذکر آچکا ہے کہ ۱۹۱۸ء کے موسم سرما میں امیر حبیب اللہ خان سیر و تفریح اور شکار کے لئے کابل کی سمت مشرق میں جلال آباد - کونٹر اور پغمان کے سرسبز و شاداب علاقے میں گیا ہوا تھا اور کابل میں اپنے بیٹے سردار امان اللہ خان کو اپنا قائمقام والی بنا کر چھوڑ گیا تھا جو افسران اور رؤسا اس کے ساتھ تھے ان میں جنرل محمد نادرخان-سردار نصر اللہ خان مستوفی الملک مرزا محمد حسین برگیڈئیر شامل تھے سیر و تفریح کرتے ہوئے ایک مقام کلہ گوش میں ٹھہرا اور کیمپ لگانے کا حکم دیا۔چند روز وہاں قیام کا ارادہ کیا ۲۰ فروری ۱۹۱۹ء بروز جمعرات اپنے خیمہ میں اپنی ملکہ علیاء حضرت کے ساتھ محو استراحت تھا کہ کسی نامعلوم دشمن نے باوجود پہرہ اور حفاظتی انتظامات کے خیمہ میں گھس کر اس کے کان میں پستول رکھ کر چلا دیا اور اس سے اس کی موت واقعہ ہوگئی۔امیر حبیب اللہ خان کے بعد اصولاً اس کا بڑا بیٹا سردار عنایت اللہ خان مستحق تاج و تخت تھا لیکن اس کے چا سردار نصر اللہ خان نے اس کا حق غصب کر لیا اور خود بادشاہ بن گیا اور جلال آباد کے علاقہ میں دربار کر کے اس کا اعلان عام کر دیا۔جب کابل میں سردار امان اللہ خان اور دیگر سرداران کو یہ خبر ملی تو وہ شک وشبہ میں مبتلا ہو گئے۔سردار امان اللہ خان نے سردار عبدالقدوس خان شاہ عاصی کے مشورہ سے کابل میں موجود اراکین سلطنت رؤسا اور علماء کا اجلاس طلب کیا اور علاقہ جلال آباد میں ہونے والے تمام واقعات کا با چشم تر تذکرہ کیا۔اور کہا کہ میرا باپ اور ملک کا بادشاہ کس مپرسی کی حالت میں قتل کر دیا گیا۔سردار نصر اللہ خان نے نہ تو قاتل کی گرفتاری کے لئے تگ دو کی اور نہ ولی عہدی کے بارہ میں امیر حبیب اللہ خان کی وصیت کی پرواہ کی بلکہ سردار عنایت اللہ خان کو محروم کر کے اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کروا دیا۔کیا ان حالات سے نتیجہ نہیں نکلتا کہ دراصل یہ قتل سردار نصر اللہ خان نے کروایا ہے کیا جو کچھ ہوا درست ہوا اس پر حاضرین نے کہا کہ نہیں درست نہیں ہوا۔اس پر