شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 129 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 129

129 میں تمہیں اس شرط پر معاف کروں گا کہ تم سب مسلح ہو کر ہمارے ساتھ چلو اور اپنی حفاظت میں ہمیں سرحد پار کروا دو اس پر گاؤں والے بندوقیں لے کر ہمارے ساتھ چلے اور ہمیں افغانستان کی سرحد سے گزار دیا وہاں ہم نے ان کو رخصت کر دیا۔(۱۳۷) انگریزی عملداری میں داخلہ اور قادیان کو روانگی انگریزی علاقہ میں آکر سید احمد نور نے قیام کیا ، آگ جلائی اور رات گزارنے کا اہتمام کیا وہ خود تو جاگتے رہے لیکن ان کے بھائی سید صاحب نور صاحب سو گئے۔آنکھ کھلنے پر انہوں نے بتایا کہ خواب میں انہوں نے یہ الفاظ سنے ہیں ”وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا سید احمد نو رصا حب نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی خواب ہے۔صبح آگے روانہ ہوئے اس سفر میں ان لوگوں کے ساتھ تھوڑا سا ضرورت کا سامان بستر وغیرہ ہی تھے باقی تمام اثاثہ اور سامان پیچھے چھوڑ آئے تھے راستہ میں ایک گاؤں آیا جہاں کا نمبر دار سید احمد نور کو جانتا تھا۔اس نے اپنے پاس عزت و احترام سے ٹھہرایا۔یہاں سے آگے روانہ ہوئے پاڑہ چنار پہنچے جہاں انگریزوں کی چھاؤنی تھی۔یہاں پر ایک ہندوسید احمد نور کا دوست تھا اس کے پاس قریباً ایک ماہ ٹھہرے۔سید احمد نور کے پاس تمام ہمراہیوں کے لئے ریل کے کرایہ کی رقم نہیں تھی اس لئے قادیان تک پیدل سفر کا ارادہ تھا۔ڈاک کا پتہ بھی معلوم نہ تھا اس لئے قادیان خط نہ لکھ سکے لاہور میں وہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب سے واقف تھے ان کے نام خط لکھا کہ میں اہل وعیال سمیت پاڑہ چنار پہنچ گیا ہوں اس وقت سفر خرچ کے لئے رقم نہیں ہے روپیہ کا انتظام ہونے پر قادیان پہنچوں گا جب یہ خط ڈاکٹر صاحب کو ملا تو انہوں نے فوراً بذریعہ تار اتی (۸۰) روپے بھجوا دئے رقم ملنے پر سید احمد نور صاحب پاڑہ چنار سے روانہ ہوئے اور ۸/ نومبر ۱۹۰۳ء کو مع اہل و عیال قادیان پہنچ گئے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تمام حالات حضور کی خدمت