شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 113 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 113

113 حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ایک گھنٹہ تک برابر ان پر پتھر برسائے گئے حتی کہ ان کا جسم پتھروں میں چھپ گیا مگر انہوں نے اف تک نہ کی ، ایک شیخ تک نہ ماری‘ - (۱۱۶) سید احمد نور صاحب کا بیان ہے کہ جب حضرت صاحبزادہ صاحب کو سنگسار کرنے کے لئے لے جایا جار ہا تھا تو ہا تھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔آپ راستہ میں تیزی سے اور خوش خوش جا رہے تھے۔ایک مولوی نے پوچھا کہ آپ اتنے خوش کیوں ہیں ابھی آپ کو سنگسار کیا جانے والا ہے؟ - آپ نے فرمایا یہ ہتھکڑیاں نہیں بلکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا زیور ہے اور مجھے یہ خوشی ہے کہ میں جلد اپنے پیارے مولیٰ سے ملنے والا ہوں۔(۱۱۷) حضرت صاحبزادہ صاحب کو کابل کے باہر شرقی جانب ہند وسوزان کے ایک میدان موسومه به سیاہ سنگ میں سنگسار کیا گیا تھا۔(۱۱۸) جناب قاضی محمد یوسف صاحب کا بیان ہے کہ جب امیر حبیب اللہ خان نے حضرت صاحبزادہ پر لگائے گئے فتویٰ کفر اور سنگساری کی سزا کے کاغذ پر دستخط کر دئے تو سردار نصر اللہ خان نے کابل میں موجود ملاؤں کو اطلاع کروا دی اور وہ ارک شاہی کے سامنے جمع ہونے شروع ہو گئے۔تب حضرت صاحبزادہ صاحب کو مقتل کی طرف لے جایا گیا۔یہ ہجوم وزارت حربیہ کے سامنے سے گزر کر اس سڑک پر روانہ ہوا جو بالا حصار کو جاتی ہے۔کابل کے شیر دروازہ سے گزر کر شہر سے باہر آئے۔بالا حصار کا قلعہ کو ہ آسامائی پر واقعہ ہے۔یہ قلعہ اس وقت بطور میگزین استعمال ہوتا تھا۔اس کی جانب جنوب ایک پرانا قبرستان ہے جس میں افغانستان کے امراء ورؤسا کی قبریں ہیں۔اس کے قریب حضرت صاحبزادہ صاحب کو سنگسار کرنے کے لئے ایک گڑھا قریباً اڑھائی فٹ گہرا کھودا گیا جس میں حضرت صاحبزادہ صاحب کو گاڑ دیا گیا۔گاڑے جانے کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب پر پہلا پتھر سردار نصر اللہ نے چلایا۔مگر ایک روایت یہ بھی