شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 4
شعب ابی طالب 4 وائل ابو جہل، امیہ بن خلف ، عقبه، شیبه، ابوسفیان ، اسود بن مطلب ،نضر بن حارث اور ابو اہمتری وغیرہ جمع ہوئے اور ایک شخص کو حضرت رسول اکرم صلی یا پیلم کو بلانے کیلئے بھیجا۔آپ پیغام حق پہنچانے کے مواقع کی تلاش میں رہتے اور یہاں سب سردار جمع ہو کر بیٹھے تھے آپ تشریف لائے قریش نے اپنی بہت سوچی سمجھی سکیم کے مطابق آپ کے سامنے اپنے مطالبات رکھے۔محمد تمہاری وجہ سے قوم میں اختلاف پیدا ہوا ہے۔لوگ گروہوں میں بٹ رہے ہیں تم نے اپنے باپ دادا کا مذہب چھوڑ دیا ہے اپنے بزرگوں کی بات بھی تم نہیں مانتے۔ہم جن بتوں کی پوجا کرتے ہیں انہیں تم بے جان اور بے عقل کہتے ہو۔ہم نے ہر کوشش کر لی کہ تمہیں سمجھا ئیں اور ایسے غلط کاموں سے باز رکھیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہو سمجھ نہیں آتی کہ آخر تم نے یہ سارا جھگڑا کیوں کھڑا کیا ہے۔اگر تمہیں دولت کی خواہش ہے تو ہم تمہیں اتنا مال جمع کر کے دینے کا وعدہ کرتے ہیں کہ مکہ میں سب سے زیادہ دولتمند ہو جاؤ۔اگر تمہیں سرداری کا شوق ہے تو ہم تمہیں اپنا سردار مان لیتے ہیں۔اگر اس سے بھی بڑھ کر بادشاہ بننا چاہتے ہو تو چلو ہم تمہیں اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں۔اگر تم یہ ساری باتیں اس لئے کرتے ہو کہ کسی بیماری میں مبتلا ہو یا کسی جن کا سایہ ہو گیا ہے تو ہم اپنے خرچ پر تمہارا علاج کرا دیتے ہیں۔اگر تم کسی اچھی سی لڑکی سے شادی کرنے کی خاطر یہ سب کر رہے ہو تو ہم خود عرب کی بہترین لڑکی تلاش کر کے تمہاری شادی کرا دیتے ہیں آپ نے بڑے تحمل سے، خاموشی کے ساتھ ساری باتیں سنیں۔جب وہ اپنی ساری تجاویز پیش کر چکے تو آپ نے فرمایا مجھے ان میں سے کسی چیز کی خواہش نہیں۔نہ میں بیمار ہوں ، میں خدا کی طرف۔