شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف

by Other Authors

Page 3 of 36

شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 3

شعب ابی طالب شعب ابی طالب 3 مکہ کے رہنے والے ایک معمول کے مطابق اپنے رسم ورواج کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی گزار رہے تھے اُن کے لئے حضرت رسول کریم صلی ی ی یم کالا یا ہوا نیا دین ہرگز قابل قبول نہ تھا۔وہ اُس کے عادی نہیں تھے۔وہ دین اُن کے مزاج کے مطابق نہ تھا۔اس لئے شدید رد عمل ہوا اور اُن کی ساری طاقتیں اس بات پر جمع ہو گئیں کہ کسی نہ کسی طرح حضرت محمد صلی یا ایک یتیم کے دین کو پھیلنے سے روکنا ہے۔انہوں نے کوشش کی کہ اول تو حضور سل السلام کی آواز دوسروں تک نہ پہنچے اور اگر کوئی سن ہی لے تو مانے نہیں اور اگر مان لے تو اُس کو اتنی تکلیفیں اور سزائیں دی جائیں کہ وہ تنگ آکر نیا دین چھوڑ دے اور حضرت محمد صلی یا یہ تم اکیلے رہ جائیں اور بالآخر خود بھی اپنے ایک خدا کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں سب سے آگے آگے قریش کے سردار تھے جو مکہ کے طاقتور اور رئیس لوگ تھے اُن کا عوام پر بڑا اثر تھا وہ اپنے سرداروں کے پیچھے لگ کے مسلمانوں کو ستاتے اور دکھ دیتے تھے۔جس رفتار سے مسلمانوں کی تعداد میں ترقی ہوتی اُسی رفتار سے مخالفین کا غم و غصہ بڑھتا اور وہ اپنی کوششوں کو تیز تر کر دیتے۔نبوت کے ساتویں سال جب کفار مکہ نے دیکھا کہ اب تو حضرت حمزہ اور حضرت عمر جیسے بڑے بڑے لوگ بھی مسلمان ہو گئے ہیں کچھ مسلمان جو حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے وہاں سکون سے رہ رہے ہیں اور اسلام کا پیغام پہنچا رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ سمجھدار لوگوں کا ایک وفد خود رسول اکرم سالی یا اسلام سے ملے اور مذاکرات کر کے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرے چنانچہ ایک دن خانہ کعبہ کے صحن میں ولید بن مغیرہ عاص بن