شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 30
شعب ابی طالب 30 چونکہ آپ کا ذکر سنا ہوا تھا اور دل میں آپ کے دعوی سے کچھ دلچپسی تھی انہوں نے آپ کی بات مان لی اور آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی باتیں سنے لگ گئے۔آپ نے انہیں بتایا کہ خدا کی بادشاہت قریب آرہی ہے بت اب دنیا سے مٹادئے جائیں گے۔تو حید کو دنیا میں قائم کر دیا جائے گا نیکی اور تقویٰ پھر دنیا میں قائم ہو جائیں گے کیا مدینہ کے لوگ اس عظیم الشان نعمت کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں؟ انہوں نے آپ کی باتیں سنیں اور متاثر ہوئے۔اور کہا: آپ کی تعلیم کو ہم مقبول کرتے ہیں۔(استفاده دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۱۳۰) ابتدائی طور پر چھ افراد نے بیعت کی اور مدینہ چلے گئے۔مدینہ پہلے یثرب کہلاتا تھا۔ایک سال بعد حج پر دوبارہ ان احباب سے ملاقات متوقع تھی آپ سوچتے رہے کہ دیکھیں یثرب میں اسلام کے پیغام پر لوگ کیسا رد عمل دکھاتے ہیں۔مکہ اور طائف والے تو ایک طرح حق بات سننے سے انکار کر ہی چکے تھے اب یثرب سے کیا خبر آتی ہے۔ان دنوں کے حالات کے متعلق سرولیم میور (ایک انگریز جس نے بانی اسلام اور اسلام کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے ) نے لکھا ہے۔ان ایام میں محمد (صلی شما یہ تم اپنی قوم کے سامنے اس طرح سینہ سپر تھے کہ انہیں بعض اوقات حرکت کی تاب نہیں ہوتی تھی اپنی بالآخر فتح کے یقین سے معمور مگر بظاہر بے بس اور بے یار و مددگار وہ اور اُس کا چھوٹا سا گروہ اُس زمانے میں گویا ایک شیر کے منہ میں تھے مگر اُس خدا کی نصرت کے وعدوں پر کامل اعتماد رکھتے ہوئے جس نے اُسے رسول بنا کر بھیجا تھا۔محمد سا ہی ہم ایک عزم کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا تھا جسے کوئی چیز اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی تھی اگلے سال ۱۲ نبوی حج کا موقع آیا جس کا آپ نے سال بھر انتظار کیا تھا تو آپ