شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف

by Other Authors

Page 31 of 36

شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 31

شعب ابی طالب 31 بڑے شوق سے منی تشریف لے گئے عقبہ کے مقام پر کھڑے ہو کر بڑی امید سے ادھر اُدھر نظر دوڑانے لگے صرف آپ ہی یثرب کے مسلمانوں کے منتظر نہیں تھے وہ بھی بڑی محبت سے آپ کا انتظار کر رہے تھے مگر اب وہ بارہ افراد تھے۔جن کا تعلق اوس اور خزرج دونوں قبیلوں سے تھا یہ احباب دل سے آپ پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کی دید کے مشتاق تھے آپ نے مٹی میں ان سے بیعت لی انہوں نے کہا کہ وہ سوائے خدا کے اور کسی کی پرستش نہیں کریں گے وہ چوری نہیں کریں گے اور بدکاری نہیں کریں گے وہ اپنی لڑکیوں کو قتل نہیں کریں گے وہ ایک دوسرے کے او پر جھوٹے الزام نہیں لگائیں گے نہ وہ خدا کے نبی کی دوسری نیک تعلیمات میں نافرمانی کریں گئے۔بیعت لینے کے بعد آپ نے نصیحت فرمائی اگر تم استقامت کے ساتھ اس عہد پر قائم رہے تو تمہیں جنت نصیب ہوگی اور اگر کمزوری دکھائی تو تمہارا معاملہ خدا کے سپر د ہو گا۔( ابن ہشام جز واوّل جلد ثانی صفحہ ۲۹۶) یہ بیعت بیعت عقبہ اولی کہلاتی ہے جو یا نبوی میں ہوئی۔یہ لوگ واپس جا کر اپنی بگڑی ہوئی قوم میں اسلام کا پیغام زیادہ زور شور سے دینے لگے بتوں سے نفرت کی عام رو پھیل گئی۔سب انسان برابر ہیں اور صرف خدا کے آگے جھکنا ہے۔یہ بات انہیں بہت پسند تھی۔انہیں علم تھا کہ مدینہ میں اسلام سکھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ نئے مسلمان ہونے والے سب کی تربیت نہ کر سکیں گے اس لئے اُن کی درخواست پر حضرت مصعب بن عمیر کو پہلے مبلغ اسلام کی حیثیت سے ساتھ بھجوایا۔حضرت