شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 10
شعب ابی طالب 10 جھکنے پر مجبور کرنا چاہتے تھے اللہ تعالیٰ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ آپ کے ساتھ تھا۔اُس نے رہائی کے سامان اپنی جناب سے کئے۔کچھ لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہونے لگا که شعب ابی طالب میں بنی ہاشم کو محصور کر کے ظلم کرنا خلاف تہذیب ہے ان لوگوں میں ہشام بن عمرو، زہیر بن امیہ مطعم بن عدی ، ابو البختر کی بن ہشام اور زمعہ بن الاسد شامل تھے یہ لوگ جب آپس میں ملتے تو ذکر کرتے کہ یہ قید ختم ہونی چاہئے۔اسی طرح دبی دبی زبان سے دوسروں کو بھی قائل کرنے کی کوشش کرتے۔ادھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اسلام کو اطلاع دی کہ دیمک نے قریش کے لکھے ہوئے اس حلف نامے کو چاٹ لیا ہے۔( یہ دیمک ایک چیونٹی ہوتی ہے جو لکڑی کو کھالیتی ہے اگر یہ ایک سال تک زندہ رہ جائے تو اس کے پر نکل آتے ہیں اور یہ اڑ نے لگتی ہے ) آپ نے اپنے چا ابو طالب کو بتایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ہمارے خلاف جو معاہدہ لکھ کر خانہ کعبہ کی دیوار سے لٹکایا گیا تھا اس کی ساری تحریر مٹ چکی ہے کاغذ کسی کیڑے نے کھالیا ہے صرف اللہ تعالیٰ کا نام لکھا ہوا باقی ہے۔ابو طالب نے کہا روشن ستاروں کی قسم تم نے کبھی مجھ سے جھوٹ نہیں بولا۔ایک روایت میں ہے کہ جب ابو طالب نے آنحضرت سالیا پی ایم کی دی ہوئی خبر اپنے گھر والوں کو سنائی تو انہوں نے کہا کہ پھر اب آپ کی کیا رائے ہے۔ابو طالب نے کہا ” میری رائے ہے کہ تم سب اپنے بہترین لباس پہنو اور قریش کے پاس جاؤ اور اس سے پہلے کہ یہ بات اُن تک پہنچے تم ان کو جا کر اطلاع دو۔