شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 25
شعب ابی طالب 25 کر دے گا حالانکہ تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے۔(ابن ہشام وطبری وسیرۃ خاتم النبیین صفحه ۱۸۳) لیکن انہیں کیا خبر کہ عداس کو کون سی دولت ہا تھ لگی تھی اور عداس کی شکل میں ایک دین حق کی تائید کرنے والا پا کر رسول اللہ کس قدر خوش ہوئے ہوں گے۔تھوڑی دیر اس باغ میں آرام فرمانے کے بعد آپ وہاں سے روانہ ہو کر نخلہ پہنچے جو مکہ سے ایک منزل کے فاصلہ پر ہے یہاں آپ نے کچھ دن قیام فرما یا پھر مکہ کی طرف روانہ ہوئے کوہ حرا تک پہنچے تو مکہ میں داخلے کا سوال در پیش تھا۔مکہ قانون کے مطابق مکہ چھوڑ کر طائف جانے سے آپ مکہ کے شہری حقوق سے دستبردار ہو گئے تھے۔مکہ چھوڑ دینے سے آپ مکہ کے باشندے نہیں رہے تھے اب مکہ والوں کا اختیار تھا کہ وہ آپ کو مکہ میں آنے دیتے یا نہ آنے دیتے اس لئے مکہ میں آنے کیلئے ضروری تھا کہ وہاں کوئی رئیس آپ کو پناہ دے آپ نے حضرت زید بن حارثہ کو ملکہ کے ایک رئیس مطعم بن عدی کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ اُسے کہو کہ محمد ( این این ) تم سے پناہ مانگتا ہے اور وہ مکہ کے دروازے پر کھڑا ہے اگر تم پناہ دو گے تو وہ شہر میں داخل ہو سکے گا ور نہ یہیں سے لوٹ جائے گا۔مطعم باوجود شدید دشمن ہونے کے ایک شریف الطبع انسان تھا اُس نے کہا ” مکہ کی اس سے زیادہ بد بختی کیا ہوگی کہ محمد (صلی اینم ) جیسا آدمی اُسے چھوڑ کر باہر چلا جائے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اور میرے ساتوں بیٹے جائیں گے لیکن محمد (سال شما این ) مکہ میں ہی رہے گا۔پھر اُس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور انہیں کہا ” میرے بیٹو! محمد (سالم) نے مجھ سے پناہ مانگی ہے۔اور وہ اس وقت شہر کے دروازے پر کھڑا ہے میں وہاں چلتا ہوں تم اپنی